ذیابیطس ایک ایسا مرض ہے جس پر صرف ادویات کے ذریعے قابو پانا کافی نہیں، بلکہ خون میں شکر کو مستحکم رکھنے کے لیے طرزِ زندگی اور خوراک میں بنیادی تبدیلیاں بھی ضروری ہیں۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ کم گلیسیمک انڈیکس والی غذاؤں کا استعمال، باقاعدہ ورزش اور متوازن غذا خون میں شکر کی سطح کو کنٹرول کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
اسی سلسلے میں ماہرین نے بھنے ہوئے چنوں کو ذیابیطس کے مریضوں کے لیے ایک صحت بخش اور مؤثر ناشتہ قرار دیا ہے۔
بھنے ہوئے چنے نہ صرف غذائیت سے بھرپور ہیں بلکہ بلڈ شوگر کو مستحکم رکھنے میں بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔
نیشنل لائبریری آف میڈیسن کے مطابق، بھنے ہوئے چنوں کا گلیسیمک انڈیکس کم ہوتا ہے جس کا مطلب ہے کہ یہ خون میں شکر کو آہستہ آہستہ خارج کرتے ہیں۔
اس کے برعکس زیادہ گلیسیمک انڈیکس والی غذائیں خون میں شوگر کی سطح کو اچانک بڑھا دیتی ہیں، جو ذیابیطس کے مریضوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہیں۔
چنوں میں موجود فائبر اور پروٹین انسولین کے اخراج کو متوازن رکھتے ہیں جس سے جسم کو صرف اتنی انسولین درکار ہوتی ہے جتنی واقعی ضرورت ہو، یہی وجہ ہے کہ بھنے ہوئے چنے بلڈ شوگر لیول کو مستحکم رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بھنے ہوئے چنے فائبر سے بھرپور ہوتے ہیں جو نظامِ ہاضمہ کو بہتر بناتے اور شوگر کے تیزی سے خون میں شامل ہونے کو روکتے ہیں، فائبر آنتوں کی صحت کو بہتر بنانے اور مفید بیکٹیریا کی افزائش میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: صرف ایک گلاس لونگ کا پانی، شوگر اور صحت پر بڑا اثر؟
چنوں میں موجود پروٹین پٹھوں کی مضبوطی کو فروغ دیتا ہے اور دیر تک پیٹ بھرے ہونے کا احساس دلاتا ہے جس سے غیر صحت بخش اسنیکس کھانے کی خواہش کم ہو جاتی ہے۔
یہ تمام عوامل ذیابیطس کے مریضوں کے لیے نہایت اہم ہیں اور بھنے ہوئے چنوں کو ناشتہ میں شامل کرنا صحت کے لیے فائدہ مند قرار دیا جاتا ہے۔





