اسلام آباد: وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر اختیار ولی خان نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے کبھی بھی مذاکرات کے عمل کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے متعدد بار بات چیت کی پیشکش کے باوجود مثبت پیشرفت سامنے نہیں آ سکی۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے اختیار ولی خان نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے اپوزیشن لیڈر کی حیثیت سے بھی میثاقِ جمہوریت کی دعوت دی تھی اور وزارتِ عظمیٰ سنبھالنے کے بعد بھی پی ٹی آئی کو کئی مرتبہ مذاکرات کی پیشکش کی گئی۔
ان کے مطابق وزیراعظم اب تک سات مرتبہ پی ٹی آئی کو بات چیت کی دعوت دے چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ محمود خان اچکزئی کی جانب سے بھی مذاکرات کی بات سامنے آئی، تاہم جب بھی حکومت نے سنجیدہ کوشش کی، اس کا کوئی مثبت نتیجہ نہیں نکلا۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے ہمیشہ مذاکرات کے عمل کو غیر سنجیدہ انداز میں لیا۔
اختیار ولی خان نے کہا کہ مذاکرات ہی بند گلی سے نکلنے کا راستہ فراہم کرتے ہیں، جبکہ تحریک انصاف کے پاس محدود آپشنز رہ گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بیرسٹر گوہر کی جانب سے بار بار معافی تلافی کی باتیں کی جا رہی ہیں، تاہم عملی طور پر سنجیدگی نظر نہیں آتی۔
یہ بھی پڑھیں : حکومت سے مذاکرات پر اپوزیشن کا بڑا قدم، کمیٹی تشکیل پا گئی
کوآرڈینیٹر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان اب ایک ہارڈ اسٹیٹ بن چکا ہے اور توڑ پھوڑ یا بدامنی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
انہوں نے واضح کیا کہ مذاکرات کی آڑ میں 9 مئی کے واقعات کو معاف نہیں کیا جائے گا اور بیرون ملک بیٹھ کر شرارتیں کرنے والوں کو پی ٹی آئی کی حمایت حاصل ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کسی بھی اسٹریٹ موومنٹ سے قبل پی ٹی آئی کو بدامنی نہ پھیلانے کی ضمانت دینا ہوگی۔
ان کا کہنا تھا کہ اب پاکستان کی معیشت کو دیوالیہ کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، تاہم محمود خان اچکزئی سے بات چیت کا امکان موجود ہے۔





