پی ٹی آئی مذاکرات اور مزاحمت ایک ساتھ کرتی ہے، گورنر خیبر پختونخوا

پشاور: گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف( پی ٹی آئی ) ایک طرف مذاکرات کی بات کرتی ہے اور دوسری طرف مزاحمت کی بات، جو ملکی سیاسی صورتحال کے لیے تشویش کا باعث ہے۔

پشاور میںمیڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی ہمیشہ جمہوریت کے اصولوں کی بات کرتی رہی ہے جبکہ وزیراعظم شہباز شریف نے بھی میثاق جمہوریت کی اہمیت پر زور دیا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ بانیپاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے ملاقاتیں جیل رولز کے مطابق ہوں گی اور اس سلسلے میں پی ٹی آئی کے 50 افراد ملاقات کے لیے اڈیالہ جیل پہنچ چکے ہیں۔

گورنر خیبر پختونخوانے مزید کہا کہ دنیا پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات کی خواہاں ہے اور عالمی برادری سے تعلقات بہتر بنانے کے لیے مثبت اقدامات ضروری ہیں۔

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں امن و امان کی بحالی کے لیے بھی بھرپور کام کیا جانا چاہیے تاکہ صوبہ اور ملک مستحکم رہیں۔

یہ بھی پڑھیں : پی ٹی آئی نے مذاکرات کو کبھی سنجیدگی سے نہیں لیا، اختیار ولی خان

جبکہ دوسری جانب وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر اختیار ولی خان نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے کبھی بھی مذاکرات کے عمل کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے متعدد بار بات چیت کی پیشکش کے باوجود مثبت پیشرفت سامنے نہیں آ سکی۔

نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے اختیار ولی خان نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے اپوزیشن لیڈر کی حیثیت سے بھی میثاقِ جمہوریت کی دعوت دی تھی اور وزارتِ عظمیٰ سنبھالنے کے بعد بھی پی ٹی آئی کو کئی مرتبہ مذاکرات کی پیشکش کی گئی۔

ان کے مطابق وزیراعظم اب تک سات مرتبہ پی ٹی آئی کو بات چیت کی دعوت دے چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ محمود خان اچکزئی کی جانب سے بھی مذاکرات کی بات سامنے آئی، تاہم جب بھی حکومت نے سنجیدہ کوشش کی، اس کا کوئی مثبت نتیجہ نہیں نکلا۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے ہمیشہ مذاکرات کے عمل کو غیر سنجیدہ انداز میں لیا۔

اختیار ولی خان نے کہا کہ مذاکرات ہی بند گلی سے نکلنے کا راستہ فراہم کرتے ہیں، جبکہ تحریک انصاف کے پاس محدود آپشنز رہ گئے ہیں۔

Scroll to Top