حکومت چاہتی ہے کہ پوری اپوزیشن مذاکرات میں شامل ہو، لیکن پی ٹی آئی نے انکار کر دیا، رانا ثنا

اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ حکومت چاہتی ہے کہ پوری اپوزیشن مذاکرات میں شامل ہو، تاہم پاکستان تحریک انصاف نے خود کو مذاکرات سے الگ کر لیا ہے۔

نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ تحریک تحفظ آئین پاکستان اپنی رضامندی سے وزیراعظم کو آگاہ کرے گی، جبکہ وزیراعظم نے اپوزیشن کو ڈائیلاگ کی دعوت دی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ تحریک انصاف نے کہا ہے کہ وہ مذاکرات میں شامل نہیں ہوگی اور مذاکرات سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔

رانا ثنا اللہ نے مزید کہا کہ مولانا فضل الرحمان نے بھی تحریک تحفظ آئین پاکستان کے ساتھ بیٹھنے کا عندیہ نہیں دیا، جو صورتحال حوصلہ افزا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر جواب وزیراعظم خود دیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی خواہش ہے کہ پوری اپوزیشن مذاکرات میں حصہ لے، اور ہماری مذاکراتی کمیٹی میں پیپلزپارٹی سمیت تمام اتحادی شامل ہوں گے۔

دوسری جانب پروگرام میں شریک وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان نے کہا کہ تمام ذمہ داری محمود اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کو سونپی گئی ہے، اور محمود اچکزئی جو بھی فیصلہ کریں گے، تحریک انصاف اسے تسلیم کرے گی۔

یہ بھی پڑھیں : سہیل آفریدی کو لاہور میں خوش آمدید کہتے ہیں، یہ پاکستان کا یورپ دیکھنے آئے ہیں، عظمیٰ بخاری

شفیع جان نے واضح کیا کہ تحریک انصاف غیر مشروط مذاکرات نہیں کرے گی۔ مذاکرات کے لیے ان کی شرائط میں نئے انتخابات کرانا، نئے الیکشن کمشنر کے تحت عام انتخابات کا انعقاد، اور بانی پی ٹی آئی سمیت پارٹی رہنماؤں اور خاندان کی رسائی شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر حکومت ان شرائط پر عمل کرنے کے لیے تیار ہے تو تحریک انصاف مذاکرات کے لیے تیار ہے، اور گفتگو انہی نکات پر ہوگی۔

Scroll to Top