تحریک انصاف کی شرط واضح، مذاکرات غیر مشروط نہیں ہوں گے، شفیع جان

اسلام آباد: وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان نے کہا ہے کہ تحریک انصاف غیر مشروط مذاکرات نہیں کرے گی۔

نجی ٹی وی کے پروگرام سے گفتگو کرتے ہوئے شفیع جان نے بتایا کہ مذاکرات کی تمام ذمہ داری محمود اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کو سونپی گئی ہے، اور جو بھی فیصلہ محمود اچکزئی کریں گے، تحریک انصاف اسے تسلیم کرے گی۔

انہوں نے واضح کیا کہ مذاکرات کے لیے ان کی شرائط میں نئے انتخابات کرانا، نئے الیکشن کمشنر کے تحت عام انتخابات کا انعقاد، اور بانی پی ٹی آئی سمیت پارٹی رہنماؤں اور خاندان تک رسائی شامل ہے۔

شفیع جان نے کہا کہ اگر حکومت ان شرائط پر عمل کرنے کے لیے تیار ہے تو تحریک انصاف مذاکرات کے لیے تیار ہے، اور بات چیت انہی نکات پر ہوگی۔

دوسری جانب پروگرام میں شریک وزیراعظم شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ حکومت چاہتی ہے کہ پوری اپوزیشن مذاکرات میں شامل ہو، تاہم پاکستان تحریک انصاف نے خود کو مذاکرات سے الگ کر لیا ہے۔

 رانا ثنا اللہ نے کہا کہ تحریک تحفظ آئین پاکستان اپنی رضامندی سے وزیراعظم کو آگاہ کرے گی، جبکہ وزیراعظم نے اپوزیشن کو ڈائیلاگ کی دعوت دی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : حکومت چاہتی ہے کہ پوری اپوزیشن مذاکرات میں شامل ہو، لیکن پی ٹی آئی نے انکار کر دیا، رانا ثنا

انہوں نے واضح کیا کہ تحریک انصاف نے کہا ہے کہ وہ مذاکرات میں شامل نہیں ہوگی اور مذاکرات سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔

رانا ثنا اللہ نے مزید کہا کہ مولانا فضل الرحمان نے بھی تحریک تحفظ آئین پاکستان کے ساتھ بیٹھنے کا عندیہ نہیں دیا، جو صورتحال حوصلہ افزا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر جواب وزیراعظم خود دیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی خواہش ہے کہ پوری اپوزیشن مذاکرات میں حصہ لے، اور ہماری مذاکراتی کمیٹی میں پیپلزپارٹی سمیت تمام اتحادی شامل ہوں گے۔

Scroll to Top