2025 میں سونے کی قیمتیں بلند، سرمایہ کار خوش، سُنار اور عوام کیلئے مشکلات کا سال قرار

2025 میں سونے کی قیمتیں بلند، سرمایہ کار خوش، سُنار اور عوام کیلئے مشکلات کا سال قرار

سال 2025 سونے کے حوالے سے سرمایہ کاروں کے لیے خوشیوں بھرا رہا، جبکہ سُنار اور عام صارف مہنگائی کی زد میں آئے اور کئی روزگار کے متبادل راستے اختیار کرنے پر مجبور ہوئے۔

تفصیلات کے مطابق محکمہ مارکیٹ کے اعداد و شمار کے مطابق، 31 دسمبر 2024 کو فی تولہ سونے کی قیمت 2 لاکھ 72 ہزار 600 روپے تھی، جو دسمبر 2025 میں بڑھ کر 4 لاکھ 72 ہزار 800 روپے تک جا پہنچی۔ اس دوران ایک تولہ سونا تقریباً دو لاکھ روپے مہنگا ہوا، جس کے باعث زیورات خریدنا عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو گیا۔

سال 2025 میں سونا سرمایہ کاری کا مرکز بنا، اور سونے میں سرمایہ کاری کرنے والوں نے خاطر خواہ منافع حاصل کیا۔ تاہم، عام صارف اور سُنار مہنگائی کی زد میں رہے۔ کراچی کے علاقے لیاقت آباد کے صرافہ بازار میں جہاں کبھی دن رات طلائی زیورات کی خرید و فروخت ہوتی تھی، وہاں بھی سونے کی بڑھتی قیمتوں کے باعث کاروبار میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی۔

سُنار گاہکوں کی کمی اور کاروبار میں مندی کی وجہ سے مالی مشکلات کا شکار ہوئے اور کئی صراف اپنے روزگار کے لیے پان بیچنے یا دیگر چھوٹے موٹے کام کرنے پر مجبور ہو گئے۔

سونے کی بڑھتی قیمتوں نے لوگوں کو مصنوعی زیورات کی طرف راغب کیا، جس سے اصل سونے کی طلب میں نمایاں کمی واقع ہوئی۔ عالمی منڈی میں بھی سونے کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا، جہاں فی اونس سونا 1,698 ڈالر تک پہنچ گیا۔ ماہرین کے مطابق آئندہ برس بھی سونے کی قیمتوں میں مزید اضافے کا امکان موجود ہے۔

یوں سال 2025 سرمایہ کاروں کے لیے منافع بخش ثابت ہوا، مگر سُنار اور عام صارف کے لیے یہ مہنگائی اور مشکلات کا سال رہا، جو سونے کی بلند قیمتوں کی ایک اور داستان بن گئی۔

Scroll to Top