وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے رہنما جب بھی پنجاب آتے ہیں تو بدتمیزی اور انتشار کا طوفان برپا کرتے ہیں۔
وفاقی مملکت طلال چودھری کا کہنا ہے کہ اگر اپوزیشن کو بات چیت کرنی ہے تو وہ اسپیکر کے پاس آئے، ایجنڈا بھی طے ہوگا اور مذاکرات بھی ہوں گے۔
طلال چودھری نے پی ٹی آئی قیادت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ دو لوگ باتیں تو بہت کرتے ہیں مگر خود ان پر اعتماد نہیں ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ تحریک انصاف کی قیادت کو یہ بھی یقین نہیں کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے بعد کیا مؤقف سامنے آئے گا۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی اقتدار میں نہیں تو اسی لیے نظام کے خلاف ہو گئی ہے جبکہ یہ خواہش رکھتی ہے کہ سب کچھ پہلے جیسا ہو جائے، جو اب ممکن نہیں۔
وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری نے مزید کہاکہ الیکشن ہو چکے ہیں اور ملک میں حکومت چل رہی ہے۔
ن لیگی رہنما نے خیبرپختونخوا حکومت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ صوبے کو اربوں روپے دیے گئے، کیا پی ٹی آئی سے اس کا حساب نہیں مانگا جا سکتا؟
طلال چودھری نے طنزیہ انداز میں کہا کہ کیا وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے لیے بھی حکومت نے لبرٹی چوک بند کروایا تھا؟
یہ بھی پڑھیں: صدرآصف زرداری نےبانی پی ٹی آئی کوبیوقوف آدمی قراردےدیا
وزیر مملکت طلال چودھری نے مزید کہا کہ قانون، آئین اور جمہوری نظام کے خلاف کسی بھی رویے کو قبول نہیں کیا جائے گا۔





