جمعیت علمائے اسلام کے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا ہے کہ ملک کو آگے بڑھانے کے لیے شفاف انتخابات اور عوامی نمائندگی ضروری ہیں۔
سینیٹر کامران مرتضیٰ نے نجی ٹی و ی سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ملک میں زبردستی مسلط حکومتوں کے خلاف مشترکہ جدوجہد کی بات کی جا رہی ہے۔
کامران مرتضیٰ نے کہا کہ 26ویں آئینی ترمیم کے بعد مختلف جماعتوں کے راستے الگ نظر آتے ہیں جبکہ ترمیم سے قبل رابطے اور ہم آہنگی موجود تھی، مگر بعد میں اعتماد کا فقدان بڑھ گیا۔
انہوں نے کہا کہ پارٹیوں کے درمیان عدم اعتماد کی فضا اب بھی برقرار ہے اور پارٹی ورکرز کی سطح پر بھی شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں۔
سینیٹر مرتضیٰ نے کہا کہ اسد قیصر، مولانا صاحب اور دیگر رہنماؤں کے درمیان رابطے موجود ہیں اور تحریک کی کامیابی کے لیے دو بنیادی نکات اہم ہیں، ایک آزاد اور منصفانہ الیکشن کمیشن کا قیام اور انتخابات میں مداخلت کے خاتمے کے لیے غیر جانبداری کو یقینی بنانا۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب حکومت اس قدر خوفزدہ ہو چکی ہے کہ قیام و طعام کے لیے مختص مقامات بھی بند کر دیے، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی
سینیٹر کامران مرتضیٰ نے زور دیا کہ عوامی مینڈیٹ کے مطابق نظام چلائے بغیر ملک میں ترقی ممکن نہیں، کمیٹی کی تشکیل اور مختلف رہنماؤں کی شمولیت پر بھی غور جاری ہے تاکہ جدوجہد منظم اور مؤثر ہو سکے۔





