پاکستان نے وائٹ ہاؤس پر کیسے اپنا اثر جمایا؟ برطانوی اخبار ٹیلیگراف کی تجزیاتی رپورٹ جاری

پاکستان نے وائٹ ہاؤس پر کیسے اپنا اثر جمایا؟ برطانوی اخبار ٹیلیگراف کی تجزیاتی رپورٹ جاری

برطانیہ کے معروف اخبار دی ٹیلیگراف نے اپنی تازہ تجزیاتی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ پاکستان نے ایک بار پھر واشنگٹن میں نمایاں حیثیت حاصل کر لی ہے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ماضی کی کشیدہ صورتحال کے باوجود وائٹ ہاؤس میں غیر معمولی پذیرائی حاصل کرنے میں کامیاب رہا ہے۔

اتوار کو شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق پاکستان اور امریکا کے تعلقات میں فیصلہ کن موڑ مارچ 2025 میں آیا، جب پاکستان نے افغانستان سے امریکی انخلا کے دوران کابل ایئرپورٹ کے ایبی گیٹ حملے کے مرکزی ملزم کی گرفتاری میں امریکا کے ساتھ کلیدی تعاون کیا۔ اس حملے میں 13 امریکی فوجی ہلاک ہوئے تھے۔ پاکستانی حکام نے نہ صرف ملزم کو حراست میں لیا بلکہ فوری طور پر امریکا کے حوالے بھی کر دیا۔

رپورٹ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے دوران اس تعاون کا کھلے الفاظ میں اعتراف کیا اور پاکستان کی حکومت کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔ یہ بیان صدر ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت کے بیانات سے بالکل مختلف تھا، جب وہ پاکستان پر ’’جھوٹ اور دھوکے‘‘ کے الزامات عائد کرتے رہے تھے۔

پردے کے پیچھے سفارتی حکمت عملی
دی ٹیلیگراف لکھتا ہے کہ اس بار پاکستان نے ایک منظم اور عملی سفارتی حکمت عملی کے تحت ٹرمپ انتظامیہ کی انسدادِ دہشت گردی ترجیحات میں براہِ راست تعاون کیا۔ امریکا نے 2 مارچ کو محمد شریف اللہ عرف جعفر پر کابل حملے کی منصوبہ بندی کا الزام عائد کیا، جسے چند دنوں میں واشنگٹن منتقل کر دیا گیا۔ دونوں ممالک کے حکام نے اسے دوطرفہ تعلقات میں بڑی پیش رفت قرار دیا۔

ایک سینئر پاکستانی عہدیدار کے مطابق یہی وہ لمحہ تھا جس نے ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ تعلقات کی سمت بدل دی، جبکہ ایک سابق امریکی عہدیدار نے بھی اسے پاکستان کی بڑی سفارتی کامیابی قرار دیا۔

پاک بھارت کشیدگی اور واشنگٹن کا کردار
رپورٹ میں اپریل میں جنوبی ایشیا میں پیدا ہونے والی کشیدگی کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جب بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں 26 سیاحوں کی ہلاکت کے بعد بھارت نے پاکستان پر الزامات عائد کرتے ہوئے میزائل حملے کیے۔ پاکستان کی جانب سے فضائی اور توپ خانے کے جوابی اقدامات کے باعث خطے میں جنگ کا خطرہ پیدا ہو گیا۔

دی ٹیلیگراف کے مطابق جہاں بھارت نے کسی بھی بین الاقوامی ثالثی کو مسترد کیا، وہیں پاکستان نے صدر ٹرمپ کو نوبیل امن انعام کے لیے نامزد کر دیا، جسے ماہرین نے ایک سوچا سمجھا سفارتی قدم قرار دیا۔ ایٹلانٹک کونسل کے سینئر فیلو مائیکل کوگل مین کے مطابق جو واشنگٹن میں اثرانداز ہونے میں مددگار ثابت ہوئی۔

واشنگٹن میں لابنگ اور عسکری رابطے
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دونوں ممالک نے واشنگٹن میں لابنگ سرگرمیاں تیز کیں۔ بھارت نے ٹرمپ مہم کے سابق مشیر جیسن ملر کی خدمات حاصل کیں، جبکہ پاکستان نے بااثر اور مہنگی لابنگ فرموں کے ذریعے ٹرمپ انتظامیہ تک براہِ راست رسائی حاصل کی۔

اسی تناظر میں جون میں پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کا دورہ واشنگٹن غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا۔ رپورٹ کے مطابق جنرل عاصم منیر اور صدر ٹرمپ کے درمیان ایک نجی اور غیر اعلانیہ ملاقات اور ظہرانہ ہوا، جسے پاکستان کی سول ملٹری حساسیت کے تناظر میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا گیا۔ بعد ازاں صدر ٹرمپ نے کئی مواقع پر جنرل عاصم منیر کی تعریف کی اور انہیں اپنا ’’پسندیدہ فیلڈ مارشل‘‘ بھی کہا۔

علاقائی کردار اور معاشی مفادات
دی ٹیلیگراف کے مطابق پاکستان نے خود کو خطے میں امن کی کوششوں کا اہم شراکت دار ثابت کرنے کے لیے خلیجی ممالک، ایران، مشرقِ وسطیٰ اور سعودی عرب کے ساتھ اپنے تعلقات کو نمایاں کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ چین کے معدنی غلبے کے مقابلے میں پاکستان نے امریکا کو اپنے وسیع معدنی ذخائر تک رسائی کی پیشکش بھی کی۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ستمبر میں پاکستان اور امریکا کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے، جس کے تحت تقریباً 6 کھرب ڈالر مالیت کے معدنی وسائل امریکی کمپنیوں کے لیے کھولنے کی بات کی گئی۔
خدشات برقرار، مگر سفارتی کامیابی نمایاں
تاہم رپورٹ کے مطابق پاکستان کی کمزور معیشت اور ماضی میں شدت پسند گروہوں سے تعلقات اب بھی واشنگٹن میں تشویش کا باعث ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ حالیہ پیش رفت نے پاکستان کو سفارتی سطح پر مضبوط کیا ہے، مگر اس مقام کو برقرار رکھنے کے لیے اسلام آباد کو مسلسل عملی نتائج دینا ہوں گے۔

دی ٹیلیگراف کے مطابق فی الحال پاکستان کی سفارتی کوششوں نے اسے وائٹ ہاؤس میں غیر معمولی رسائی دلا دی ہے، جو خطے کی سیاست میں اس کے بڑھتے ہوئے کردار کی عکاسی کرتی ہے۔

Scroll to Top