پی ٹی آئی حکومت 14 سال میں امن و روزگار فراہم کرنے میں ناکام رہی، آفتاب شیرپاؤ

قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ نے کہا ہے کہ صوبے کے چیف ایگزیکٹو کا بنیادی فرض عوامی مسائل کا حل ہے تاہم بدقسمتی سے صوبائی حکومت کی تمام تر توجہ دھرنوں اور سیاسی دوروں تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔

چارسدہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے آفتاب شیرپاؤ نے کہا کہ گزشتہ چودہ برس سے خیبرپختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت ہے، مگر اس طویل عرصے کے باوجود امن، روزگار اور مہنگائی جیسے بنیادی مسائل پر کوئی مؤثر قابو نہیں پایا جا سکا۔

ان کا کہنا تھا کہ بدامنی، غربت اور بے روزگاری نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے اور صوبائی حکومت اپنی آئینی ذمہ داریاں ادا کرنے میں مکمل طور پر ناکام نظر آتی ہے۔

قومی وطن پارٹی کے سربراہ نے کہا کہ دہشت گردی نے پوری قوم کو متاثر کیا، مگر صوبائی حکومت امن و امان کے قیام کے لیے سنجیدہ اقدامات کرتی دکھائی نہیں دیتی۔

انہوں نے کہا کہ آل پارٹیز کانفرنس اور جرگے محض نمائشی ثابت ہوئے اور ان کے فیصلوں پر عملدرآمد نہیں ہو سکا۔

آفتاب شیرپاؤ نے کہا کہ صوبے کے حقوق، امن و امان اور انصاف کے لیے حکومت نے کوئی ٹھوس اور مؤثر اقدامات نہیں کیے۔

انہوں نے پنجاب میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے ساتھ روا رکھے گئے مبینہ ناروا سلوک کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ بین الصوبائی احترام اور ہم آہنگی ناگزیر ہے۔

انہوں نے کہا کہ سفارتی کامیابیوں کے دعوؤں کے باوجود ملک میں سرمایہ کاری نہ آنا پالیسی ریفارمز کی کمی کا واضح ثبوت ہے، سرمایہ کاروں کو تحفظ اور آسانیاں فراہم کیے بغیر معاشی بہتری ممکن نہیں ہو سکتی۔

آفتاب شیرپاؤ کا کہنا تھا دوحہ معاہدے پر مؤثر عملدرآمد کے بغیر تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کا مسئلہ حل نہیں ہو سکتا جبکہ کراس بارڈر دہشت گردی کی روک تھام اولین ترجیح ہونی چاہیے اور اس ضمن میں افغان حکومت پر دباؤ ڈالنا ضروری ہے۔

انہوں نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت کی بندش کو دونوں ممالک کے لیے نقصان دہ قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ تمام سرحدی راستے کھولے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تجارت کی بحالی سے ہزاروں افراد کو روزگار کے مواقع میسر آ سکتے ہیں۔

قومی وطن پارٹی کے سربراہ نے پی آئی اے کی نجکاری کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ بصورت دیگر قومی خزانے کو ہر سال اربوں روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑتا، انہوں نے کہا کہ دیگر خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں کی نجکاری کے سوا بھی کوئی دوسرا راستہ موجود نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا بدامنی کی لپیٹ میں، وزیراعلیٰ لاہور میں سیاسی نمائش میں مصروف ہیں، ڈاکٹر عباد اللہ

آخر میں آفتاب شیرپاؤ نے کہا کہ صوبائی حکومت اور وفاق کو اعداد و شمار پر سیاست کرنے کے بجائے واضح اور جامع حکمت عملی اپنانا ہو گی، جبکہ افغانستان میں پھنسے ہوئے طلبہ اور تاجروں کے لیے فوری لائحہ عمل تیار کیا جانا چاہیے۔

Scroll to Top