ایک ہفتے میں ہزاروں غیرقانونی تارکین وطن سعودی عرب سے نکال دیے گئے

ریاض: سعودی عرب میں اقامہ، لیبر اور سرحدی قوانین کے خلاف کارروائیاں بدستور جاری ہیں، جہاں ایک ہفتے کے دوران مزید 18 ہزار 877 خلاف ورزیاں ریکارڈ کی گئیں جبکہ 13 ہزار 241 غیرقانونی تارکینِ وطن کو ملک بدر کر دیا گیا۔

عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق 18 سے 24 دسمبر کے درمیان سیکیورٹی اداروں نے مختلف علاقوں میں چھاپوں اور مشترکہ کارروائیوں کے دوران ہزاروں افراد کو حراست میں لیا۔

ان کارروائیوں میں 11 ہزار 991 افراد کو اقامہ قانون کی خلاف ورزی، 3 ہزار 808کو غیرقانونی طور پر سرحد عبور کرنے کی کوشش اور 3 ہزار 78 افراد کو لیبر قوانین کی خلاف ورزی پر گرفتار کیا گیا۔

حکام کے مطابق غیرقانونی طور پر مملکت میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے ایک ہزار 312 افراد کو بھی حراست میں لیا گیا، جن میں 55 فیصد ایتھوپیا، 44 فیصد یمن جبکہ ایک فیصددیگر ممالک کے شہری شامل ہیں۔

اسی دوران 46 افراد کو ایسے وقت گرفتار کیا گیا جب وہ غیرقانونی طور پر سعودی عرب سے ہمسایہ ممالک میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔

مزید برآں غیرقانونی تارکینِ وطن کو سفر، رہائش، روزگار یا پناہ فراہم کرنے میں ملوث 14 افراد کو بھی قانون نافذ کرنے والے اداروں نے حراست میں لیا۔ حکام کے مطابق ان عناصر کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : وفاق کے ذمے خیبرپختونخوا کے واجبات، صوبائی حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں، فیصل کریم کنڈی

رپورٹ کے مطابق اس ایک ہفتے کے دوران مکمل قانونی کارروائی کے بعد 13 ہزار 241 غیرقانونی تارکینِ وطن کو ان کے آبائی ممالک واپس بھیج دیا گیا۔

سعودی حکام نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ مملکت میں غیرقانونی طور پر مقیم افراد کو سفری، رہائشی یا ملازمت کی سہولت فراہم کرنا سنگین جرم ہے، جس پر بھاری جرمانے، قید اور دیگر سخت سزائیں مقرر ہیں۔
حکام نے شہریوں اور مقیم غیر ملکیوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ قوانین کی مکمل پاسداری کریں اور کسی بھی غیرقانونی سرگرمی سے اجتناب کریں۔

Scroll to Top