پاکستان میں سال 2025 میں آنے والے تمام عالمی رہنماؤں کی فہرست جاری

اسلام آباد: سال 2025 پاکستان کے لیے خارجہ تعلقات کے حوالے سے انتہائی اہم رہا۔ اس سال پاکستان نے علاقائی اور عالمی سطح پر اپنی سفارتکاری کو فعال رکھا اور متعدد دوطرفہ اور سہ فریقی مذاکرات کے ذریعے سیاسی، اقتصادی اور سیکیورٹی کے شعبوں میں پیش رفت حاصل کی۔

سال کے آغاز میں ہی پاکستان نے اپنے علاقائی پڑوسیوں کو خاص طور پر دوطرفہ اور سہ فریقی مذاکرات میں انگیج کیا۔ اس دوران مجموعی طور پر 9 عالمی رہنما پاکستان کے دورے پر آئے۔

سب سے پہلا دورہ 12 سے 13 فروری کو ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان کا تھا، جس میں تجارت، سرمایہ کاری اور توانائی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے معاہدے کیے گئے۔ دورے کے دوران 24 معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے اور دفاعی شراکت داری کو بھی فروغ ملا۔

اسی سال دیگر اہم دوروں میں شامل تھے:

3 اگست: ایران کے صدر مسعود پزشکیان، جہاں پاک ایران تجارت کو 10 ارب ڈالر تک بڑھانے پر اتفاق ہوا۔
2 سے 4 اکتوبر: ملائیشیا کے وزیراعظم داتو سری انور ابراہیم، جس میں تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم، صحت اور دفاع میں تعاون بڑھانے پر بات چیت ہوئی۔
اکتوبر: پولینڈ کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ رادوسلاو سیکورسکی، یورپی تعلقات اور عالمی سفارتی تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
15 سے 16 نومبر: اردن کے شاہ عبداللہ دوم، مشرق وسطیٰ کے حالات اور دفاعی و سیکیورٹی تعاون پر بات ہوئی۔
8 سے 9 دسمبر: انڈونیشیا کے صدر پرابوو سوبیانتو، دفاعی، اقتصادی اور تعلیمی شعبوں میں تعاون کو فروغ دیا گیا۔
26 دسمبر: متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان، سرمایہ کاری، توانائی اور انفراسٹرکچر منصوبوں پر پیش رفت اور دوطرفہ اسٹریٹجک تعلقات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

سال 2025 میں پاکستان کی خارجہ پالیسی میں سب سے زیادہ توجہ افغانستان، بھارت اور خطے میں سیکیورٹی کے امور پر رہی۔ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے 19 اپریل کو افغانستان کا دورہ کیا تاکہ افغان طالبان رجیم کے ساتھ حالات کو معمول پر لایا جا سکے۔

اس کے بعد پاکستان، افغانستان اور چین کے سہ فریقی مذاکرات بیجنگ اور کابل میں ہوئے، جن میں خطے میں امن اور دہشتگردی کے خاتمے پر تبادلہ خیال ہوا۔

یہ بھی پڑھیں : پاسپورٹ بنوانے والوں کیلئے بڑی خوشخبری

پاکستان کا خارجہ محاذ سب سے زیادہ گرم 6 مئی کو بھارت کے ساتھ فوجی کشیدگی کے دوران ہوا، لیکن پاکستان کی سفارتی حکمت عملی نے عالمی سطح پر کامیابی حاصل کی۔

پہلگام واقعے کے بعد بھارت کا بیانیہ دنیا کے کسی بھی ملک نے تسلیم نہ کیا اور عالمی برادری نے پاکستان کی پوزیشن کی حمایت کی۔

سال 2025 کے سفارتی سنگ میل:

ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان کا دورہ اور باہمی تجارت کو 5 ارب ڈالر تک بڑھانے کا ہدف۔
ایران کے صدر مسعود پزشکیان کا دورہ، پاک ایران تعلقات میں سیاسی اور اقتصادی پیش رفت۔
ملائیشیا، پولینڈ، اردن، انڈونیشیا اور متحدہ عرب امارات کے اعلیٰ سطحی دورے، جن میں تجارت، سرمایہ کاری، دفاع اور سیکیورٹی تعاون پر بات چیت ہوئی۔
افغانستان اور چین کے سہ فریقی مذاکرات کے ذریعے خطے میں امن کی کوششیں۔
بھارت کے ساتھ کشیدگی کے باوجود عالمی سطح پر پاکستان کی خارجہ پالیسی کی کامیابی۔

یہ سال پاکستان کی سفارتکاری کے لیے کامیابیوں اور علاقائی اثر و رسوخ کے حوالے سے اہم ثابت ہوا، جس نے ملک کی اقتصادی، دفاعی اور سیاسی ساکھ کو مضبوط کرنے میں کردار ادا کیا۔

Scroll to Top