شرقپور: شرقپور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی) کے مرکزی جنرل سیکرٹری مولانا عبدالغفور حیدری نے ملک کی موجودہ سیاسی و معاشی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں شفاف انتخابات کے بغیر نہ تو معیشت بہتر ہو سکتی ہے اور نہ ہی امن و امان کی صورتحال درست ہو سکتی ہے۔
مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ موجودہ حکمران اپنے پے رول پر چند علماء کو رکھے ہوئے ہیں جنہیں بلا کر تقریر کرنے کے لیے کہا جاتا ہے، جبکہ پنجاب حکومت بھی علماء کو وظیفے دینے کی کوشش کر رہی ہے لیکن لینے والے بہت کم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جے یو آئی نے اقتدار میں آنے کے لیے 75 سالوں میں کبھی بھی اسٹیبلشمنٹ سے ہاتھ نہیں ملایا اور نہ ہی مستقبل میں ملائے گی۔
مولانا نے کہا کہ پاکستان کے قیام سے لے کر اب تک نالائق اور نااہل ٹولہ اقتدار میں رہا ہے، جس نے ملکی اثاثے بیچ کر اور نئے قرضے لے کر معیشت کو بحران میں ڈال دیا ہے۔
مولانا عبدالغفور حیدری نے مزید کہا کہ بلوچستان میں پچھلے 75 سالوں سے طاقت کے استعمال کے ذریعے حکمرانی کی گئی ہے، اور پاکستان میں تقریباً 35 فیصد لوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے ہنگامی اجلاس طلب کر لیا
رہنما جے یو آئی کا کہنا تھا کہ پاکستان کا استحکام افغانستان کے استحکام سے مشروط ہے، اور وہ اچھے یا برے طالبان کے زمرے میں تقسیم نہیں کرتے۔
انہوں نے واضح کیا کہ جماعت صرف ٹی ٹی پی سے مذاکرات کی حامی ہے تاکہ علاقائی امن و استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔
مولانا عبدالغفور حیدری کی پریس کانفرنس میں ملک کی موجودہ سیاسی، اقتصادی اور سلامتی کی صورتحال پر گہری تشویش اور شفاف انتخابات کی ضرورت کو اجاگر کیا گیا۔





