عظمی بخاری کا سہیل آفریدی کےوزیراعلی پنجاب کو لکھے گئے خط پر ردعمل

وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب عظمیٰ بخاری نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ پنجاب کو لکھے گئے احتجاجی مراسلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب حکومت نے صبروتحمل کا مظاہرہ کیا۔

عظمیٰ بخاری نے کہاکہ یہ عادت سے مجبور ہیں۔انہوں نے پنجاب اسمبلی میں کھڑے ہوکر کیا کچھ کہا۔

وزیر اطلاعات نے کہا لاہور میں ہر جگہ انہیں پروٹوکول دیا گیا۔

انہو ں نےکہاکہ وزیراعلی اپنے صوبے کے لوگوں کی طرف توجہ دیں۔

عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پوائنٹ اسکورننگ اور سستی شہرت کیلئے اقدامات کئے گئے۔

یہ بھی پڑھیں : پشاورپولیس کی بڑی کامیابی ،نجم الحسن عرف پینے گروپ کا صفایا کردیا

واضح رہے کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل خان آفریدی نے آج اپنے دورہ لاہور کے دوران نامناسب رویہ پر احتجاجی مراسلہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کو ارسال کردیا۔

اپنے مراسلے میں وزیراعلیٰ آفریدی نے کہا کہ جس انداز میں میرے دورہ کے دوران معاملات کو ڈیل کیاگیا وہ کوتاہی نہیں بلکہ جان بوجھ کر سب کیاگیا، جو ہوا وہ انتظامی خامی تھی نہ ہی حادثاتی بلکہ آئینی عہدہ اوربین الصوبائی عزت کو خراب کیاگیا۔

وزیراعلی سہیل آفریدی نے کہاکہ میں نے 40 ملین لوگوں کے نمائندہ کی حیثیت سے لاہور کا دورہ کیا لیکن جو کچھ میرے ساتھ ہوا وہ کسی بھی طور ایک عوامی نمائندہ کے شایان شان نہ تھا، مارکیٹیں اور عوامی مقامات کی بندش کرتے ہوئے لاہور کے باسیوں کو تکلیف دی گئی ، موٹروے ریسٹ ایریا تک بند رکھاگیا۔

مراسلہ میںوزیراعلی نے کہاکہ میرے دورہ کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم چلائی گئی اور اسے منشیات سمگلنگ تک سے جوڑا گیا اوریہ سب پنجاب حکومت کی زیر نگرانی ہوا، ایسے رویئے اور انداز سے میری شخصیت کوتباہ کرنے کی کوشش کی گئی جسے کسی بھی طور نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔

انہوں نےمذید کہاکہ انتظامی طور پر ایسے حربے استعمال کیے گئے جن کا مقصد تضحیک کرنا تھا، ایسے طورطریقوں کے ذریعے ریاست کے یونٹس کے درمیان ہم آہنگی کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی۔

وزیراعلی سہیل آفریدی نے کہاکہ میں اس مراسلے کے ذریعے اس انداز اورطورطریقوں پر بھرپوراحتجاج کرتے ہوئے توقع رکھتاہوں کہ ان کا ازالہ کرتے ہوئے مستقبل میں ان سے اجتناب برتا جائے گا۔

انہوں نے مذیدکہاکہ اس خط کو باقاعدہ طور پر احتجاجی مراسلہ تصور کرتے ہوئے مستقبل میں کسی بھی قسم کی آئینی ، قانونی اور بین الصوبائی کاروائی کے لیے ریکارڈ پر رکھا جائے۔

Scroll to Top