ادارہ شماریات کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ پانچ سال کے دوران ملک میں شرحِ خواندگی میں صرف 3 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
پنجاب میں خواندگی کی شرح 68 فیصد رہی جبکہ بلوچستان میں یہ سب سے کم یعنی 49 فیصد پائی گئی۔
سروے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سکول سے باہر بچوں کی تعداد میں بتدریج کمی آئی ہے اور یہ شرح 30 فیصد سے گھٹ کر 28 فیصد پر آ گئی ہے۔
ادارہ شماریات کے مطابق انٹرنیٹ تک رسائی رکھنے والوں کی شرح 34 فیصد سے بڑھ کر 70 فیصد تک جا پہنچی ہے، جبکہ انٹرنیٹ استعمال کرنے والے افراد کا تناسب 17 فیصد سے بڑھ کر 57 فیصد ہو چکا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مکمل حفاظتی ٹیکہ جات کی کوریج میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جو 68 فیصد سے بڑھ کر 73 فیصد تک پہنچ گئی، جبکہ گھروں میں موبائل یا سمارٹ فون کی دستیابی 96 فیصد ہو گئی ہے۔
ادارہ شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق نوزائیدہ بچوں کی اموات کی شرح میں کمی آ کر فی ہزار زندہ پیدائش پر 41 سے کم ہو کر 35 رہ گئی ہے، جبکہ شیر خوار بچوں کی اموات کی شرح 60 سے گھٹ کر 47 فی ہزار زندہ پیدائش ہو گئی ہے۔
سروے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملک میں فی کس ماہانہ اوسطاً 5.6 کلوگرام گندم اور 0.89 کلوگرام چاول استعمال کیے جاتے ہیں۔ اسی طرح فی کس 6.12 لیٹر دودھ، 3.4 انڈے، 1.17 کلوگرام آلو اور 1.07 کلوگرام چینی کا استعمال کیا جاتا ہے۔





