امریکا نے وینزویلا کے دارالحکومت کاراکاس اور کئی اہم ریاستوں پر فضائی حملے کر دیے ہیں، جس کے بعد ملک کی اہم فوجی تنصیبات اور وزارت دفاع کو نشانہ بنایا گیا۔ حملوں کے بعد کئی علاقوں میں بجلی معطل ہوگئی اور آسمان میں دھوئیں کے گھنے بادل دیکھے گئے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا پر حملوں کا حکم دیا، اور دارالحکومت میں کم از کم سات زور دار دھماکے ہوئے۔ شہریوں نے نچلی فضا میں امریکی ہیلی کاپٹر CH-47 Chinook کو بھی پرواز کرتے ہوئے دیکھا، جس سے جنگ کے خدشات بڑھ گئے۔
ذرائع کے مطابق امریکی حملوں میں وینزویلا کے وزیر دفاع ولادیمیر پیڈرینو لوپیز کے گھر کو نشانہ بنایا گیا ہے، اور وزیر دفاع سے رابطہ نہیں ہو پا رہا۔ وینزویلا کے صدر نیکولس مادورو کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ صدارتی محل کے گرد بکتربند گاڑیاں گشت کر رہی ہیں۔
صدر مادورو نے کہا ہے کہ امریکا وینزویلا کے تیل اور معدنیات پر قبضہ کرنا چاہتا ہے، لیکن وہ اس میں کامیاب نہیں ہوگا۔ امریکی میرینز کے وینزویلا میں زمینی کارروائیوں کی بھی غیر مصدقہ اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ مادورو نے ملک میں نیشنل ایمرجنسی نافذ کر دی ہے۔
میڈیا ذرائع کے مطابق حملوں سے قبل صدر ٹرمپ فلوریڈا میں اپنی رہائش گاہ مار-اے-لاگو میں قومی سلامتی سے متعلق بریفنگ میں شریک تھے، جس میں اعلیٰ مشیروں کے ساتھ طویل مشاورت ہوئی۔ وال اسٹریٹ جرنل کے حوالے سے ذرائع نے تصدیق کی کہ امریکا وینزویلا میں کارروائی کر رہا ہے، اور امریکی فوجی طیاروں کے وینزویلا کی فضائی حدود سے نکل جانے کے بعد وائٹ ہاؤس کی طرف سے سرکاری بیان جاری کیا جائے گا۔
یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب امریکا اور وینزویلا کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا تھا۔





