وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ پنجاب میں عمران خان کے شروع کردہ مفت علاج کے پروگرام کو ختم کر دیا گیا۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن خیبر پختونخوا کے زیر اہتمام منعقدہ دو روزہ صحت آگاہی کانفرنس میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی اور خطاب کیا۔
اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا واحد صوبہ ہے جہاں سو فیصد آبادی کو مفت علاج کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے جبکہ پنجاب میں عمران خان کے دور میں شروع کیے گئے مفت علاج کے پروگرام کو ختم کر دیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں نیوٹریشن کے شعبے کے لیے وسائل میں نمایاں اضافہ کیا جائے گا، کیونکہ صحت اور تعلیم وہ شعبے ہیں جو براہ راست عوامی فلاح سے جڑے ہوئے ہیں، اسی لیے صوبائی حکومت ان پر ترجیحی بنیادوں پر سرمایہ کاری کر رہی ہے۔
محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ نظام کو اکیلے تبدیل نہیں کیا جا سکتا بلکہ اس کے لیے سب کو مل کر اپنی ذمہ داری ادا کرنا ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ ہر فرد میں ذمہ داری کا احساس پیدا کرنا ناگزیر ہے اور ذمہ داری سے غفلت بھی کرپشن کے زمرے میں آتی ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت گورننس اور سروس ڈیلیوری کے نظام کو مؤثر اور شفاف بنانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ظلم اور فسطائیت کے نظام میں صرف سڑکیں بنتی ہیں، قومیں نہیں بنتیں، جبکہ قومیں اس وقت ترقی کرتی ہیں جب امیر اور غریب کے لیے ایک جیسا قانون اور انصاف کا نظام ہو۔
انہوں نے کہا کہ امیر اور غریب کے لیے الگ الگ نظام کے خاتمے کی جدوجہد شروع کر دی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان کے ساتھ مل کر شروع کی گئی جدوجہد آج بھی پوری قوت سے جاری ہے اور سب مل کر پاکستان کو علامہ اقبال اور قائداعظم کے خوابوں کے مطابق ایک مضبوط اور حقیقی فلاحی ریاست بنائیں گے۔
وزیراعلیٰ نے ڈاکٹر یاسمین راشد کی جدوجہد کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ جس جرات اور استقامت کے ساتھ وہ حالات کا مقابلہ کر رہی ہیں وہ قابل تعریف ہے۔ڈاکٹر یاسمین راشد اپنی جدوجہد کر چکی ہیں اور اب وہ ہمارے حصے کی جنگ لڑ رہی ہیں۔





