امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وینزویلا کے انتظامی معاملات اب امریکا کی نگرانی میں چلائے جائیں گے۔
وینزویلا پر حالیہ امریکی حملے کے بعد ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو ان کی اہلیہ کے ہمراہ رات کے اندھیرے میں گرفتار کیا گیا ہے اور دونوں کو امریکی انصاف کا سامنا کرنا ہوگا۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اس نوعیت کی کارروائی دنیا نے پہلے کبھی نہیں دیکھی، حتیٰ کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد بھی ایسا حملہ دیکھنے میں نہیں آیا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکا نے اس سے قبل ایران کی جوہری تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا اور آپریشن ہیمر کے ذریعے اس کی جوہری صلاحیت کو ختم کیا گیا۔
تفصیلات بیان کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ نکولس مادورو ایک ظالم حکمران تھے، جن کے دور میں لوگوں کو گرفتار کیا گیا اور قتل تک کیا گیا۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ آپریشن امریکی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تعاون سے مکمل کیا گیا اور اب وینزویلا کے انتظامی امور امریکا خود دیکھے گا۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ دہائیوں سے وینزویلا کے عوام شدید مشکلات کا شکار تھے، حالانکہ ملک تیل کی بے پناہ صلاحیت رکھتا ہے، لیکن اس کے باوجود محدود مقدار میں تیل برآمد کیا گیا۔
انہوں نے اعلان کیا کہ مادورو پر مجرمانہ الزامات عائد کیے جائیں گے اور انہیں انصاف کے کٹہرے میں لایا گیا ہے، ان کے بقول مادورو ایک ایسے مجرمانہ نیٹ ورک کا سربراہ تھا جو امریکا کو منشیات فراہم کرتا رہا۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ امریکا وینزویلا پر ایک اور حملے کے لیے بھی تیار ہے، ان کا کہنا تھا کہ امریکی تیل کمپنیاں اب وینزویلا جائیں گی اور وہاں کے عوام کے مفاد میں فیصلے کیے جائیں گے۔
صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ واشنگٹن ڈی سی گزشتہ آٹھ ماہ سے محفوظ ہے اور انہوں نے نیشنل گارڈ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی کو سراہا۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ نے وینزویلا کے گرفتار صدر کی تصویر جاری کردی
انہوں نے کہا کہ نکولس مادورو اب امریکا کے لیے کبھی خطرہ نہیں بن سکیں گے جبکہ کراکس میں کامیاب آپریشن امریکا کو دھمکیاں دینے والوں کے لیے واضح پیغام ہے۔
صدر ٹرمپ نے عزم ظاہر کیا کہ امریکا اپنی سرحدوں کو محفوظ بنائے گا اور منشیات کے کارٹلز کو مکمل طور پر تباہ کیا جائے گا۔





