جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے دینی مدارس اور مساجد کے تحفظ کے لیے کسی بھی قسم کے سمجھوتے سے صاف انکار کر دیا ہے۔
راولپنڈی اور اسلام آباد کے جید علما کرام کے وفد سے ملاقات میں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اگر حکومت بیرونی دباؤ کے تحت مدارس اور مساجد کے خلاف کوئی کارروائی کرے گی تو اس کا بھرپور مقابلہ کیا جائے گا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ موجودہ رویہ حکومت کا اپنا نہیں بلکہ ایک بیرونی ایجنڈے کا حصہ ہے جس کا مقصد مذہبی نوجوانوں کو مشتعل کر کے ریاست کے خلاف کھڑا کرنا ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ مدارس کی رجسٹریشن میں تاخیر اور مساجد کے انہدام کی کوششیں ملک میں شریعت کے ماہرین کی سرگرمیوں کو محدود کرنے کی کوشش ہیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دینی مدارس کے خلاف حکومتی رویہ بیرونی ایجنڈے کے تحت ہے تاکہ نوجوانوں میں ریاست مخالف جذبات پیدا کیے جائیں۔
جے یو آئی اسلام آباد کے ترجمان نے راولپنڈی اور اسلام آباد میں مدارس اور مساجد کے ممکنہ انہدام پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور حکومتی اقدامات کے خلاف بڑے احتجاجی مظاہروں پر غور کرنے کا عندیہ دیا۔
یہ بھی پڑھیں: شفاف الیکشن کے بغیر ملک میں معیشت اور امن و امان نہیں ہو سکتا، مولانا عبدالغفور حیدری
ملاقات میں مدنی مسجد کی تعمیر نو کے بعد کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا گیا، وفد کی قیادت امیر جے یو آئی اسلام آباد مفتی اویس عزیز نے کی جبکہ اجلاس میں جے یو آئی پنجاب کے رہنما مولانا سعید الرحمان سرور، مفتی عبدالرحمان، ڈاکٹر عتیق الرحمان، ڈاکٹر ضیاء الرحمان، مولانا نذیر احمد فاروقی، مولانا عبدالغفار، مفتی عبدالسلام، مفتی امیر زیب، ارشد عباسی، مفتی عبداللہ، مفتی مسرت اقبال، قاری اسرار اللہ، مولانا عبدالکریم، مولانا عبدالقدوس محمدی اور مولانا احمد الرحمان شریک تھے۔





