خیبرپختونخوا حکومت میں شامل کچھ لوگ طالبان کو بھتہ دیتے ہیں، خواجہ آصف

اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ افغان طالبان اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) قابلِ اعتبار نہیں اور یہ عناصر بھارت کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ خیبرپختونخوا کی حکومت میں شامل بعض افراد طالبان کو بھتہ دیتے ہیں، جو ایک تشویشناک امر ہے۔

ایک انٹرویو میں گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے مسائل کا حل سیاسی طریقے سے نکالا جانا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان تحریک انصاف پر پابندی یا صوبے میں گورنر راج کے حامی نہیں، کیونکہ ماضی میں سیاسی جماعتوں پر پابندی لگانے کے تجربات ناکام ثابت ہو چکے ہیں۔

وزیر دفاع نے پاک بھارت کشیدگی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر بھارت نے دوبارہ جارحیت کی تو پاکستان مکمل طور پر جواب دینے کے لیے تیار ہے۔

انہوں نے کہا کہ مئی 2025 میں پاکستان نے یہ ثابت کر کے دکھا دیا کہ وہ اپنے دفاع کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔

اس جنگ کے نتیجے میں پاکستان کی عالمی ساکھ میں اضافہ ہوا اور دفاعی سازوسامان کے ٹیسٹ کامیاب ہونے کے بعد نئے آرڈرز بھی موصول ہوئے۔

ان کا کہنا تھا کہ ممکن ہے چھ ماہ بعد پاکستان کو عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کی ضرورت بھی نہ رہے۔

خواجہ آصف نے مزید کہا کہ پاک بھارت جنگ میں پاکستان کے مؤثر جواب کو پوری دنیا نے دیکھا، اور مئی 2025 کی جھڑپوں کے بعد بھارت کا اعتماد بری طرح متزلزل ہو چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : صوبہ سلگ رہا ہے، سہیل آفریدی کو پنجاب اور سندھ کی فکر لاحق ہے، امیر حیدر ہوتی

انہوں نے واضح کیا کہ اگر بھارت نے آئندہ کوئی ایڈونچر کیا تو اسے اسی نوعیت کا سخت جواب دیا جائے گا، کیونکہ پاکستانی افواج کی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر تسلیم کیا جاتا ہے۔

غزہ کی صورتحال پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ اگر امریکا واقعی انسانیت کا دوست ہے تو اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو گرفتار کر کے کسی عدالت میں پیش کرے۔

انہوں نے کہا کہ دعا ہے کہ ترکیہ نیتن یاہو کو گرفتار کر کے مظلوموں کا حساب برابر کرے۔

Scroll to Top