دہشت گردی کی میٹنگز میں نہ آنا سہیل آفریدی کا معمول بن چکا ہے: طلال چوہدری کا الزام

اسلام آباد: وزیرمملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ اس وقت پاکستان کی سکیورٹی فورسز کے پیچھے سیاسی قیادت یک زبان نہیں ہے۔

نجی ٹی وی کے پروگرام میںگفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیرمملکت نے بتایا کہ سب سے بڑا فرق تحریک انصاف اور اس کی خیبرپختونخوا حکومت کی پالیسیوں میں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ این ایف سی کی میٹنگوں میں مالی فوائد کے لیے ضرور آتے ہیں، لیکن وزیراعظم کی سربراہی میں دہشت گردی کے حوالے سے ہونے والی اہم میٹنگز میں شرکت نہیں کرتے۔

طلال چوہدری نے بتایا کہ عوامی سطح پر بات کرنے سے پہلے پسِ پردہ کئی کوششیں کی گئیں تاکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ پر تمام جماعتیں اتفاق رائے پر پہنچ سکیں، لیکن اس میں کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔

وزیرمملکت نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ نے آئی جی اور چیف سیکرٹری سے کہا کہ ہم خود دہشت گردی کے خلاف کارروائی نہیں کریں گے، ورنہ ہم بھی اے این پی، پیپلزپارٹی، ن لیگ اور جے یو آئی ایف کی طرح ہوں گے۔

طلال چوہدری نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ موقف پی ٹی آئی کے بانیوں کے بیانیے کے پیچھے ہے، جو سمجھتے ہیں کہ جتنی ریاست دباؤ اور انتشار میں رہے گی، اتنا ہی سیاسی فائدہ انہیں حاصل ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں : صوبہ سلگ رہا ہے، سہیل آفریدی کو پنجاب اور سندھ کی فکر لاحق ہے، امیر حیدر ہوتی

جبکہ دوسری جانب عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما اور سابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا امیر حیدر خان ہوتی نے مردان میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کی کارکردگی پر سخت تنقید کی اور کہا کہ خیبر پختونخوا بدامنی اور دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے، جبکہ وزیر اعلیٰ صوبے سے باہر پنجاب اور سندھ فتح کرنے کے خواب دیکھ رہے ہیں۔

امیر حیدر خان ہوتی نے کہا کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کو دیگر صوبوں میں احتجاج کرنے کی بجائے اپنے صوبے میں امن و امان کی بحالی پر توجہ دینی چاہیے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب پنجاب میں پرویز الٰہی پہلے ہی موجود ہیں تو وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کو وہاں احتجاج کرنے کی کیا ضرورت ہے۔

اے این پی رہنما نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کی ہر احتجاجی تحریک کا بوجھ پشتونوں پر کیوں ڈالا جاتا ہے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ اور مذاکرات ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔

انہوں نے سیاسی رویوں پر سنجیدہ نظرثانی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں تمام سیاسی جماعتوں کو ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر ایک صفحے پر آنا چاہیے۔

Scroll to Top