عمران خان نے ٹکراؤ کا راستہ نہ بدلا تو پی ٹی آئی اور پختونخوا حکومت متاثر ہوں گی، رانا ثناء

اسلام آباد: وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثناء اللہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر بانی پی ٹی آئی نے ریاست سے ٹکراؤ کی پالیسی جاری رکھی تو اس کا نقصان نہ صرف ان کی جماعت بلکہ خیبر پختونخوا کی حکومت کو بھی اٹھانا پڑے گا۔

رانا ثناء اللہ نے کہا کہ وزیراعظم کی جانب سے پی ٹی آئی کو مذاکرات کی پیشکش اسٹیبلشمنٹ اور اپنے اتحادیوں کو اعتماد میں لے کر کی گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت سنجیدہ سیاسی مذاکرات پر یقین رکھتی ہے، تاہم بانی پی ٹی آئی کے ماضی کے رویے کو دیکھا جائے تو وہ کبھی بھی مذاکرات کے لیے آمادہ نہیں ہوئے۔

دوسری جانب پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف نے مذاکراتی عمل پر شکوک کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ ان کے خیال میں مذاکرات سے متعلق بیانات صرف اخبارات تک محدود ہیں اور عملی طور پر سنجیدہ پیش رفت نظر نہیں آ رہی۔

خواجہ آصف نے واضح کیا کہ حکومت کو محمود خان اچکزئی یا کسی بھی فرد پر کوئی اعتراض نہیں، اپوزیشن جس شخص کو مذاکرات کے لیے نامزد کرے گی حکومت اسے قبول کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی کے فلور پر اپوزیشن اور حکومت کے درمیان جو کشیدگی نظر آتی ہے، وہ بند کمرہ اجلاسوں اور میٹنگز میں دکھائی نہیں دیتی۔

انہوں نے مزید کہا کہ سیاسی مسائل کا حل بات چیت میں ہی ہے اور ملک کو درپیش چیلنجز کے پیش نظر تمام فریقین کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں : دہشت گردی کی میٹنگز میں نہ آنا سہیل آفریدی کا معمول بن چکا ہے: طلال چوہدری کا الزام

وزیرمملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ اس وقت پاکستان کی سکیورٹی فورسز کے پیچھے سیاسی قیادت یک زبان نہیں ہے۔

نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیرمملکت نے بتایا کہ سب سے بڑا فرق تحریک انصاف اور اس کی خیبرپختونخوا حکومت کی پالیسیوں میں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ این ایف سی کی میٹنگوں میں مالی فوائد کے لیے ضرور آتے ہیں، لیکن وزیراعظم کی سربراہی میں دہشت گردی کے حوالے سے ہونے والی اہم میٹنگز میں شرکت نہیں کرتے۔

طلال چوہدری نے بتایا کہ عوامی سطح پر بات کرنے سے پہلے پسِ پردہ کئی کوششیں کی گئیں تاکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ پر تمام جماعتیں اتفاق رائے پر پہنچ سکیں، لیکن اس میں کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔

وزیرمملکت نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ نے آئی جی اور چیف سیکرٹری سے کہا کہ ہم خود دہشت گردی کے خلاف کارروائی نہیں کریں گے، ورنہ ہم بھی اے این پی، پیپلزپارٹی، ن لیگ اور جے یو آئی ایف کی طرح ہوں گے۔

Scroll to Top