پشاور: پشاور پولیس نے شہر میں لینڈ مافیا، سود خوروں اور راہزنوں کے خلاف بھرپور اور منظم کریک ڈاؤن شروع کر دیا ہے، جس کے تحت شہریوں کی قیمتی زمینیں اور جائیدادیں ہڑپ کرنے والے عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا رہا ہے۔
پولیس حکام کے مطابق اسلحے کے زور پر زمینوں اور مکانات پر قبضہ کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری ہیں، جبکہ ان اقدامات کو مزید مؤثر بنانے کے لیے قبضہ مافیا کی تفصیلی فہرستیں بھی مرتب کر لی گئی ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ برس پشاور میں قبضہ مافیا کے خلاف 75 مقدمات درج کیے گئے، جن میں ملوث 332 افراد میں سے 242 کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ باقی ملزمان کی گرفتاری کے لیے بھی چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ پولیس کو درخواست دینے پر اکثر صورتوں میں ان کی جائیداد یا پلاٹ کا قبضہ واپس دلوا دیا جاتا ہے، تاہم شہر میں راہزنی کے واقعات تاحال تشویش کا باعث ہیں۔
پولیس حکام نے واضح کیا ہے کہ رہزنی، سود خوری اور قبضہ مافیا کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کی جا رہی ہیں اور کسی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی۔ سود خوروں کے خلاف درج 51 مقدمات میں ملوث تمام 63 ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : نئے سال پر ایس ایس پی آپریشنز پشاور کا سخت پیغام، شہریوں کے لیے وارننگ جاری
یہ کارروائیاں ایس ایس پی آپریشنز فرحان اور سی سی پی او پشاور ڈاکٹر میاں سعید کی سخت نگرانی میں کی جا رہی ہیں اور دونوں نے اس معاملے کو سختی سے نوٹس لیا ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے بھی ایس ایس پی آپریشنز اور سی سی پی او نے ایک پورے گروپ کو ہلاک کر کے شہر میں جرائم کے خلاف طاقت کا پیغام دیا تھا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ شہریوں کے جان و مال کے تحفظ اور شہر میں امن و امان کے قیام کے لیے یہ کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی، اور کوئی بھی گروہ قانون سے بالا تر نہیں رہے گا۔





