چین میں سائنس دانوں نے فیوژن انرجی کے شعبے میں ایک اہم کامیابی حاصل کر لی ہےجو آئندہ نسل کی توانائی کے ذرائع کو سمجھنے میں حائل ایک بڑی رکاوٹ کو عبور کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔
چائنیز اکیڈمی آف سائنسز سے تعلق رکھنے والی تحقیقاتی ٹیم کے مطابق ان کے تجرباتی نیوکلیئر ری ایکٹر، جسے “مصنوعی سورج” کا نام دیا گیا ہے، نے پلازمہ کی ایسی کثافت حاصل کر لی ہے جو اس سے پہلے ناممکن سمجھی جاتی تھی۔
نیوکلیئر فیوژن ایسا عمل ہے جس کے ذریعے نقصان دہ فضلہ خارج کیے بغیر تقریباً لامحدود توانائی پیدا کی جا سکتی ہے۔ یہ اسی قدرتی عمل کی نقل ہے جو سورج کے اندر توانائی پیدا کرتا ہے، تاہم زمین پر اس عمل کو بڑے پیمانے پر انجام دینا نہایت مشکل ثابت ہوا ہے۔
گزشتہ برسوں کے دوران اس میدان میں کئی کامیابیاں حاصل کی گئی ہیں۔ ان میں ایک اہم پیش رفت گزشتہ سال اس وقت سامنے آئی جب ادارے کے مصنوعی سورج کو پہلی بار ایک ہزار سیکنڈ سے زائد وقت تک کامیابی کے ساتھ چلایا گیا، تاہم بعد ازاں یہ ریکارڈ فرانس کی WEST مشین نے توڑ دیا تھا۔





