تہران: ایران میں مہنگائی اور کرنسی کی قدر میں کمی کے خلاف ملک گیر مظاہروں کا سلسلہ 28 دسمبر سے جاری ہے اور اب تک 45 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں سکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق مظاہرے اب 27 صوبوں تک پھیل چکے ہیں، جہاں دکاندار اور شہری روزانہ کی بنیاد پر مختلف مقامات پر احتجاج کر رہے ہیں۔ تازہ احتجاج کے دوران مظاہرین نے اہم شہروں میں ٹائر جلا کر سڑکیں بند کر دیں۔
ایرانی میڈیا کے مطابق کچھ مظاہرین ہتھیاروں سے لیس تھے اور انہوں نے پولیس پر پتھراؤ اور براہ راست فائرنگ کی۔ پُرتشدد احتجاج کو کنٹرول کرنے کے لیے ملک بھر میں پولیس اور سکیورٹی اہلکاروں کی اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے۔
احتجاج کے دوران ایرانی حکام نے ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس معطل کر دی ہے۔ نیٹ بلاکس کے مطابق یہ واضح نہیں کہ انٹرنیٹ بندش کی اصل وجہ کیا ہے، تاہم ایران میں ماضی میں بھی مظاہروں کے دوران انٹرنیٹ معطل کیا جاتا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : حکومت اپوزیشن کے ساتھ ڈائیلاگ کے لیے تیار، وزیراعظم نے کئی مرتبہ دعوت دی، طارق فضل چوھدری
یاد رہے کہ ایرانی عوام گزشتہ 12 روز سے مہنگائی، اقتصادی بحران اور کرنسی کی گراوٹ کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں، جس کے دوران درجنوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
امریکی صدر نے ایک حالیہ انٹرویو میں خبردار کیا کہ اگر مظاہرین کو قتل کیا گیا تو امریکہ ایران کے خلاف بھرپور اور سخت ردعمل دے گا۔





