اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ پنجاب میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا باقاعدہ خیرمقدم کیا گیا تھا، اگر ایسا نہ ہوتا تو پنجاب اسمبلی کا چیمبر کیوں کھولا جاتا اور انہیں اندر آنے کی اجازت کیوں دی جاتی؟
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ پنجاب اسمبلی آنے والوں کے ناموں کی فہرست موجود تھی، تاہم فہرست میں شامل افراد کے علاوہ کچھ اور لوگ بھی اسمبلی پہنچ گئے، جنہوں نے دھینگا مشتی کی اور ایوان کا ماحول خراب کیا۔
انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف اس وقت کسی اسٹریٹ موومنٹ کی پوزیشن میں نہیں ہے، پی ٹی آئی 8 فروری کو پہیہ جام ہڑتال کرنا چاہتی ہے جس کی قانون اجازت نہیں دیتا۔
ان کے مطابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا غیرقانونی سرگرمیوں میں ملوث ہیں اور یہ سفر بھی غیرقانونی ہے، جبکہ پی ٹی آئی کی کسی بھی تحریک کی کامیابی کا کوئی امکان نہیں۔
رانا ثنا اللہ نے مزید کہا کہ کراچی میں پی ٹی آئی کی سرگرمیوں پر وفاق کو کوئی اعتراض نہیں، تاہم سندھ حکومت پہیہ جام ہڑتال کی اجازت نہیں دے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی قسم کی غیرقانونی حرکتیں کی گئیں تو بعد میں ایف آئی آرز پر شکایت نہیں ہونی چاہیے۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان نے رانا ثنا اللہ کے مؤقف پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت نے جس طرح ان کا خیرمقدم کیا، اس پر وہ شکر گزار ہیں۔
ان کے مطابق ائیرپورٹ سے باغ جناح اور کراچی پریس کلب تک انہیں کہیں نہیں روکا گیا۔
شفیع جان نے کہا کہ سہیل آفریدی کے دورۂ پنجاب کے حوالے سے پنجاب حکومت کو باقاعدہ خط لکھا گیا تھا اور وہ سیاسی سرگرمیوں کے لیے وہاں گئے تھے۔
ان کا دعویٰ تھا کہ پنجاب اسمبلی سے 500 میٹر دور انہیں اتار دیا گیا، صرف وزیراعلیٰ کی گاڑی کو جانے کی اجازت دی گئی، جبکہ عظمیٰ بخاری کے کہنے پر صرف 9 صحافیوں کو اسمبلی میں داخل ہونے دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں : تحریک انصاف میں اختلافات کی خبروں پر سیکرٹری اطلاعات کا ردعمل
انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر تحریک ناکام ہے تو لبرٹی اور دیگر علاقوں کو بند کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
ان کے مطابق صورتحال حکمران جماعت کے ہاتھ سے نکل چکی ہے اور ن لیگ بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔
شفیع جان کا کہنا تھا کہ ن لیگ سیاسی طور پر ختم ہوچکی ہے اور اس کے پاس کوئی واضح وژن موجود نہیں۔
ان کے مطابق ن لیگ کے پاس کوئی عوامی ایجنڈا نہیں، اسی لیے پہلے 9 مئی اور اب پہیہ جام ہڑتال کا شور مچایا جا رہا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی کی پہیہ جام ہڑتال میں کسی قسم کا تشدد یا زبردستی شامل نہیں ہوگی۔





