جمعیت علماء اسلام کے رہنما مولانا سلطان اشرف خیل دہشتگردانہ حملے میں شہید، عوام اور مذہبی حلقوں میں شدید ردعمل سامنے آگیا۔
تفصیلات کے مطابق ڈیرہ اسماعیل خان اور جنوبی وزیرستان کے علاقے وانا بازار میں ایک المناک واقعے کے دوران جمعیت علماء اسلام کے رہنما اور جامعہ اشرفیہ کے مہتم مولانا سلطان اشرف خیل بم دھماکے میں شدید زخمی ہو گئے، اور زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے مفتی محمود ہسپتال میں شہید ہو گئے۔
پولیس کے مطابق یہ دھماکہ کونڑا چینہ مدرسہ کے قریب ہوا، جس میں مولانا سلطان شدید زخمی ہوئے۔ زخمی حالت میں انہیں فوری طور پر ڈیرہ اسماعیل خان کے مفتی محمود ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں طبی عملے نے جان بچانے کی بھرپور کوشش کی، تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہادت کے درجات پر فائز ہو گئے۔
مولانا سلطان کی شہادت کی خبر پھیلتے ہی علاقے میں شدید رنج و غم اور غصے کی فضا قائم ہو گئی۔ دینی، سماجی اور عوامی حلقوں نے واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کی، اور دہشت گردانہ کارروائی پر شدید ردعمل کا اظہار کیا۔
واقعے کے بعد بعض حلقوں نے الزام لگایا ہے کہ دہشتگرد ایک منظم منصوبے کے تحت دینی شخصیات اور معزز افراد کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس صورتحال میں بعض سیاسی عناصر، بالخصوص پی ٹی آئی کے چند رہنماؤں کے ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے، اور اس سلسلے میں تحقیقات جاری ہیں۔
علاقائی سطح پر مولانا سلطان کی شہادت نے عوامی اور مذہبی حلقوں میں شدید غصے اور رنج و غم کی لہر دوڑا دی ہے۔ کئی مقامی تنظیموں اور دینی اداروں نے مشترکہ طور پر حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ دہشتگردانہ کارروائیوں کے پیچھے چھپے عناصر کی فوری نشاندہی کریں اور ذمہ داران کو قانون کے کٹہرے میں لائیں
مولانا سلطان کی شہادت نے ایک بار پھر جنوبی وزیرستان اور ڈیرہ اسماعیل خان میں دہشت گردی کے بڑھتے خطرے کی طرف توجہ مرکوز کر دی ہے، اور اس واقعے نے عوام میں سیکیورٹی خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔





