خیبر پختونخوا جل رہا ہے، ایک اور اہم شہادت ہو گئی، وزیراعلیٰ پوائنٹ اسکورنگ کیلئے دوروں میں مصروف، عوامی ردعمل

خیبر پختونخوا جل رہا ہے، ایک اور اہم شہادت ہو گئی، وزیراعلیٰ پوائنٹ اسکورنگ کیلئے دوروں میں مصروف، عوامی ردعمل

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے پنجاب اور اس کے بعد صوبہ سندھ کے دوروں پر صوبے بھر میں شدید عوامی ردعمل سامنے آیا ہے۔ عوام اور سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا اس وقت شدید بدامنی اور دہشتگردی کی لپیٹ میں ہے، صوبہ ‘جل رہا ہے’، جبکہ وزیراعلیٰ ایک شخص کی خوشنودی اور سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لیے سرکاری خرچ پر دیگر صوبوں کے دوروں میں مصروف ہیں۔

عوامی ردعمل میں کہا جا رہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں دہشتگردی اپنے عروج پر ہے، آئے روز بم دھماکے ہو رہے ہیں، عام شہری، دینی شخصیات اور معزز افراد دہشتگردوں کے نشانے پر ہیں، جبکہ صوبے میں تعمیر و ترقی کی صورتحال بھی انتہائی ناگفتہ بہ ہے۔ اس کے باوجود صوبائی حکومت کی توجہ عوامی مسائل کے بجائے سیاسی سرگرمیوں اور نمائشی دوروں پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔

سوشل میڈیا پر جاری ردعمل میں اس امر کی نشاندہی کی جا رہی ہے کہ جنوبی وزیرستان میں بم دھماکے کے نتیجے میں جمعیت علمائے اسلام کے سینیئر رہنما مولانا سلطان کی شہادت نے صوبے کی سیکیورٹی صورتحال پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ صارفین کا کہنا ہے کہ ایک طرف اہم دینی و سیاسی شخصیات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، تو دوسری جانب آج ہی سیکیورٹی فورسز نے بھارت کے دہشتگرد پراکسی نیٹ ورک ‘فتنہ الخوارج’ سے تعلق رکھنے والے 11 دہشتگردوں کو ہلاک کیا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ صوبہ شدید سیکیورٹی چیلنجز سے دوچار ہے۔

عوام نے اپنے ردعمل میں یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ صوبائی حکومت اور وزیراعلیٰ دہشتگردوں کے خلاف مؤثر آپریشن کی راہ میں رکاوٹیں ڈال رہے ہیں۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ کا لاپروا اور دشمنانہ رویہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ انہیں صوبے کے عوام سے کوئی سروکار نہیں، نہ ہی عوام کے جان و مال کے تحفظ سے متعلق کوئی سنجیدہ حکمت عملی نظر آتی ہے۔

عوامی ردعمل میں مزید کہا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا میں عوام دشمن رویہ اب کھل کر سامنے آ چکا ہے۔ سوشل میڈیا صارفین نے تلخ تبصروں میں کہا ہے کہ ‘خیبر پختونخوا کے عوام کا اللہ ہی حافظ ہے’، جبکہ وزیراعلیٰ محض ایک فرد کی خوشنودی کے لیے دوروں اور سیاسی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ٹرینڈز اور تبصروں میں یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ جب صوبے میں عوام بم دھماکوں میں مارے جا رہے ہوں، دہشتگردی بڑھتی جا رہی ہو اور عوام خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہے ہوں، تو ایسے میں وزیراعلیٰ کے دیگر صوبوں کے دورے کس مقصد کے تحت کیے جا رہے ہیں۔ عوامی رائے میں اس صورتحال کو صوبے کے لیے تشویشناک قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ صوبائی حکومت فوری طور پر امن و امان، دہشتگردی کے خاتمے اور عوام کے تحفظ کو اپنی اولین ترجیح بنائے۔

Scroll to Top