ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ملک میں جاری احتجاجات کے حوالے سے اہم بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں باہر سے دہشت گرد لائے گئے ہیں جنہوں نے مساجد کو آگ لگائی۔
ایرانی صدر نے کہا ہے یہ عناصر ایران سے تعلق نہیں رکھتے اور اگر کوئی شہری حقیقی احتجاج کرنا چاہتا ہے تو حکومت اس کی آواز سننے اور مسائل حل کرنے کے لیے تیار ہے۔
صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے احتجاج اور ہنگامہ آرائی میں فرق ہوتا ہے، معصوم لوگوں کو قتل کرنا اور آگ لگانا قابل قبول نہیں۔
ایرانی صدر نے عوام سے اپیل کی کہ ہر محلے میں جمع ہو کر فسادات کو روکیں اور معاشرے کے امن و امان کو خراب نہ ہونے دیں۔
نوجوانوں سے کہا کہ وہ شرپسند عناصر اور دہشت گردوں کے بہکانے میں نہ آئیں، چاہے وہ ذہن میں صحیح یا غلط تجزیات بنا کر کام کر رہے ہوں۔
صدر پزشکیان نے امریکہ اور اسرائیل پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ ممالک باہر سے شرپسند عناصر کو ہدایات دے رہے ہیں کہ آگے بڑھو ہم بھی یہاں ہیں۔
انہوں نے کہا ہے کہ وہی لوگ جو پہلے ملک پر حملے کر چکے ہیں اور ہمارے نوجوانوں اور بچوں کو قتل کیا، اب انہی لوگوں کو یہ کام کروانے کا حکم دے رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: امریکہ اور ایران میں تناؤ بڑھ گیا، فضائی حملے کا خطرہ
صدر مسعود پزشکیان نے خاندانوں سے اپیل کی کہ اپنے نوجوانوں کو فسادیوں اور دہشت گردوں کے ساتھ نہ ملنے دیں اور کہا لوگ احتجاج کریں ہم آپ کے احتجاج کو سنیں گے، آپ کی فکر کو حل کریں گے، آئیں، ہم سب مل کر، ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر مسائل حل کریں۔





