پنجاب کے بعد سندھ میں بھی کنفرم ہو گیا، عمران خان ختم شدہ ہیں، سینئر اینکر پرسن غریدہ فاروقی

سینئر اینکر پرسن غریدہ فاروقی نے کہا ہے کہ پنجاب کے بعد سندھ میں بھی یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ عمران خان کی سیاسی مقبولیت میں شدید کمی واقع ہو چکی ہے۔

غریدہ فاروقی کے مطابق حالیہ جلسوں میں عوامی شرکت نہ ہونے کے برابر رہی، پنجاب اور سندھ میں کل پانچ سے چھ لاکھ کے لگ بھگ لوگ شریک ہوئے جو کہ ان صوبوں کی کل آبادی 17 سے 18 کروڑ کے مقابلے میں بہت کم ہے۔

اینکر پرسن نے مزید کہا کہ عوامی دعووں کے برعکس نوے فیصد مقبولیت کے دعوے حقیقت سے میل نہیں کھاتے، یہ صورتحال عمران خان کی قیادت اور سیاسی حکمت عملی کے لیے ایک سنگین انتباہ ہے۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ موجودہ اعداد و شمار اور جلسوں کی کم حاضری کی روشنی میں جماعت کو اپنی عوامی رابطہ مہم پر نظرِثانی کی ضرورت ہے۔

سینئر صحافی وقار ستی نے کراچی میں منعقدہ حالیہ سیاسی جلسے میں عوامی شرکت پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ جلسے کی حاضری دعووں کے برعکس انتہائی کم رہی۔

وقار ستی کے مطابق 2023 کی مردم شماری کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ کراچی میں پشتو بولنے والوں کی تعداد 27 لاکھ سے زائد ہے، جبکہ اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے مطابق شہر میں 3 سے ساڑھے 3 لاکھ افغان شہری بھی مقیم ہیں۔

صحافی وقار ستی کا کہنا ہے کہ اس آبادی کے باوجود باغِ جناح جیسے بڑے مقام پر جلسے کا ناکام ہونا قیادت کے لیے ایک سنجیدہ سوال ہے۔

سینئر صحافی کا کہنا تھا کہ ملک بھر سے کارکنان لانے کے باوجود جلسے میں خاطر خواہ تعداد جمع نہ ہو سکی، جو عوامی مقبولیت کے دعووں پر سوالیہ نشان ہے، انہوں نے اس صورتحال کو قیادت کے لیے سخت سیاسی پیغام قرار دیا۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی، پی ٹی آئی کا جلسہ ناکام، باغ جناح گراؤنڈ خالی، صرف 600 سے 700 کارکن موجود

وقار ستی نے مزید کہا کہ کراچی میں فلاحی ادارے جے ڈی سی کے لنگر پر روزانہ بغیر کسی تشہیر اور شور شرابے کے اس سے کہیں زیادہ لوگ جمع ہو جاتے ہیں، جو عوامی رجحانات اور زمینی حقائق کی واضح عکاسی کرتا ہے۔

Scroll to Top