خیبرپختونخوا کے عوام کو سہولتیں نہیں، وزیراعلیٰ دیگر صوبوں میں پہیہ جام کر رہے ہیں، بلال اظہر کیانی

جہلم: وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا کے عوام کا کیا قصور ہے کہ انہیں ایسی حکومت ملی جو اپنے صوبے میں خدمت کے بجائے دیگر صوبوں کے دوروں میں مصروف ہے۔

وزیراعلیٰ کے پی اپنے صوبے میں کام کرنے کے بجائے پہیہ جام اور سیاسی سرگرمیوں میں مصروف ہیں، جبکہ خیبرپختونخوا کے عوام بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔

جہلم میں اپنے انتخابی حلقے کے دورے کے موقع پر وزیر مملکت بلال اظہر کیانی نے الیکٹرک بس میں شہریوں کے ہمراہ سفر کیا، ٹکٹ خریدا اور مسافروں سے براہِ راست الیکٹرک بس سروس کے معیار کے بارے میں رائے لی۔ انہوں نے خواتین مسافروں سے سفری سہولتوں سے متعلق گفتگو بھی کی۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلال اظہر کیانی نے کہا کہ پنجاب کے دیگر شہروں کی طرح جہلم میں بھی سفر، علاج اور دیگر بنیادی سہولتیں بہترین انداز میں فراہم کی جارہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ خود سفر کرکے الیکٹرک بس سروس کے معیار کو دیکھنا چاہتا تھا، مسافروں نے سروس کو سراہا ہے، آئندہ دنوں میں بسوں اور روٹس میں مزید اضافہ کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ الیکٹرک بس اور کیتھ لیب سے متعلق عوام سے کیے گئے دونوں وعدے پورے کر دیے گئے ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ پرامن احتجاج اور پی ٹی آئی دو الگ الگ چیزیں ہیں۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اپنے صوبے میں کام کرنے کے بجائے دیگر صوبوں میں پہیہ جام کرنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ خیبرپختونخوا کے عوام کا کیا قصور ہے کہ انہیں ایسی حکومت میسر نہیں جو ان کی خدمت کرسکے۔

بلال اظہر کیانی کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ کے پی کو سندھ میں پہیہ جام کرنے کے بجائے پشاور میں دہشت گردی کے خلاف عملی اقدامات کرنے چاہئیں۔

پی ٹی آئی اپنی ذمہ داری نبھانے کو تیار نہیں، یہ وہ لوگ ہیں جو دہشت گرد کو دہشت گرد کہنے سے بھی کتراتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حصہ ڈالنے کے بجائے یہ عناصر رکاوٹیں ڈال رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ مذاکرات کے عمل میں سب سے بڑی رکاوٹ بانی پی ٹی آئی ہیں، جو سیاسی اور جمہوری رویہ ہی نہیں رکھتے۔

یہ بھی پڑھیں : پنجاب کے بعد سندھ میں بھی کنفرم ہو گیا، عمران خان ختم شدہ ہیں، سینئر اینکر پرسن غریدہ فاروقی

ہم ایک سیاسی اور جمہوری جماعت ہیں، اسپیکر قومی اسمبلی کی صدارت میں گزشتہ سال بات چیت کا عمل شروع ہوا تھا لیکن مذاکرات کے دوران پی ٹی آئی واک آؤٹ کر گئی۔

وزیر مملکت نے کہا کہ مذاکرات کے لیے پارلیمنٹ کے فلور سے بہتر کوئی فورم نہیں ہو سکتا۔ فلسطین کے معاملے پر آل پارٹیز کانفرنس بلائی گئی مگر پی ٹی آئی شریک نہیں ہوئی۔

پہلگام واقعے کے بعد سکیورٹی بریفنگ میں بھی اپوزیشن نے شرکت نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ سوال کرنا اپوزیشن کا حق اور کام ہوتا ہے، مگر اپوزیشن یہ ذمہ داری ادا کرنے کو تیار ہی نہیں۔

Scroll to Top