حق کی آواز ہمیشہ آزمائشوں سے گزر کر ابھرتی ہے، مولانا فضل الرحمان

پشاور: جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ اسلام کی بقا آسائشوں میں نہیں بلکہ آزمائشوں سے گزرنے میں ہے، اور دین ہمیشہ قربانی، صبر اور استقامت کا تقاضا کرتا ہے۔

صوبائی دارالحکومت میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ہمارا اصل کام یہ ہے کہ اپنے اکابرین کے نصب العین کو ہمیشہ زندہ رکھا جائے، کیونکہ جو بھی اس دنیا میں آیا ہے وہ ایک دن رخصت ہو جائے گا، کوئی بھی ہمیشہ کے لیے نہیں آیا۔

انہوں نے کہا کہ ہر انسان کو ایک دن دنیا سے پردہ کرنا ہے اور انسان خود ہی اپنے اعمال کے ذریعے اپنے آپ کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

مولانا فضل الرحمان کے مطابق کسی بھی عمل کی قبولیت کا دارومدار نیت پر ہوتا ہے، جبکہ اسلام اعتدال اور توازن کا مذہب ہے، اگر اعتدال نہ ہو تو معاشرے میں افراط و تفریط پیدا ہو جاتی ہے۔

سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ حضور اکرم ﷺ نہ صرف معلم بلکہ مربی بھی ہیں، اور تعلیم و تربیت نبوت کا حصہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مدارس میں ادب اور اخلاق کی وہ تعلیم دی جاتی ہے جو دنیا کی کسی اور دانش گاہ میں نہیں ملتی۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ آج نوجوان نسل کو اپنے بزرگوں اور اسلاف سے دور کیا جا رہا ہے اور انہیں اپنی روایات سے رشتہ توڑنے کا درس دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : صدرِ مملکت نے قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کر لیا

مولانا فضل الرحمان نے مزید کہا کہ جب حکمرانوں کی باطل قوتیں حرکت میں آتی ہیں تو وہ نئی شکلیں اختیار کر لیتی ہیں، اور ان کے مقابلے میں کھڑی ہونے والی ہر آواز حق کی آواز ہوتی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ دینِ اسلام کی بقا آسائشوں میں نہیں بلکہ آزمائشوں سے گزرنے میں ہے۔

Scroll to Top