بدامنی کی وجہ سے وزیراعلی کے آبائی ضلع میں تیراہ سے عوام نقل مکانی کررہے ہیں،اے این پی

عوامی نیشنل پارٹی خیبر پختونخو کے صدر میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ پختونخوا میں عملی طور پر حکومت کی عملداری کہیں نظر نہیں آرہی ہے۔ دہشتگردی کے باعث وزیراعلی کے آبائی ضلع میں تیراہ سے عوام نقل مکانی کررہے ہیں۔ وزیراعلی اور کابینہ عوام کی داد رسی کی بجائے کراچی کی پکنک میں مصروف ہیں۔ اس طرز عمل سے موجودہ صوبائی حکومت صوبے کے عوام کی تذلیل کررہی ہے۔

صوابی کی تحصیل ٹوپی میں شمولیتی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اے این پی کے صوبائی صدر میاں افتخار حسین نے کہا کہ عمران کی رہائی کیلئے کوششیں پی ٹی آئی کا حق ہے مگر صوبے کو نظرانداز کرنا قبول نہیں۔ پی ٹی آئی اپنی سیاست کرے مگر صوبےکے عوام کو کس بات کی سزا دی جارہی ہے؟ صوبائی خودمختاری کو ہم نے آئینی شکل دی مگر عوام اب بھی ثمرات سے محروم ہیں۔ 13 سال سے نااہل حکمرانوں کے باعث صوبائی خودمختاری پر عملدرآمد نہیں ہورہا ہے۔ مرکز اور صوبے کے درمیان جاری کشمکش کا سارا نقصان صوبہ برداشت کررہا ہے۔

انہوں نے کہاکہ حقوق کے حصول کیلئے سیاست سے بالاتر ہوکر صوبے کو مرکز سے بات کرنی ہوگی۔ اپنی سیاست کیلئے قوم کے حقوق کا سودا کرنا کسی بھی طور منظور نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے سر پر کفن باندھ کردہشتگردوں اور دہشتگردی کا مقابلہ کیا ہے۔ صوبائی حکومت کے امن جرگہ میں ہم نے خلوص نیت کے ساتھ شرکت کی ۔ امن کے قیام، صوبائی حقوق اور مسائل کے حل کیلئےہم نے موثر تجاویز دیں، عمل اس پر صوبائی حکومت نے کرنا ہے۔

انہوں نے مزید کہاکہ دہشتگردی کا خاتمہ کرنا ہے تو اے این پی کی پالیسی کو اپنانا ہوگا۔ ہم نے میدان میں بھی مقابلہ کیا اور نظریاتی طور پر بھی ان کو شکست دی۔ ہم نے اونرشپ لی تھی تب ہی مذاکرات اور آپریشن دونوں کامیاب رہے۔ ہمارے اسی ٹھوس موقف کے باعث آج تک ہمیں سزا مل رہی ہے۔ بدقسمتی سے موجودہ حکمران اس سنگین مسئلے کو سنجیدہ ہی نہیں لے رہے ہیں۔ ہم نے نہ صرف قیام امن ممکن بنایا بلکہ25 لاکھ آئی ڈی پیزکی دوبارہ آبادکاری بھی کی۔ جب تک ذمہ داری قبول نہیں کی جاتی، قیام امن ایک خواب رہے گا۔

میاں افتخار حسین نے کہا کہ دہشتگردی کی آڑ میں افغانستان کے ساتھ تجارتی راستوں کی بندش قبول نہیں۔ جنگ حل نہیں، مسائل کا حل سفارتی سطح پر مذاکرات سے تلاش کیا جائے ۔ حالات تو بھارت کے ساتھ بھی کشیدہ ہیں، وہاں راستے کیوں کھلے ہیں؟ راستوں کی بندش پختونوں کے معاش پر وار اور اقتصاد کے خلاف سازش ہے۔ عوامی مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے معاشی، داخلہ اور خارجہ پالیسیوں پر نظرثانی ناگزیر ہے۔ پختونوں کی سرزمین کو بین الاقوامی طاقتوں کا میدان جنگ نہ بنایا جائے۔ حقوق اور وسائل پر اختیار کیلئے پختونوں کے پاس سرخ جھنڈے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں۔

انہوں نے مزيد کہا کہ یہ لوگ ہمیں دھاندلی سے پارلیمان سے تو نکال سکتے ہیں، لیکن سیاست سے نہیں۔ قومی تحریک کے خلاف ہر دور میں سازشیں ہوئی ہیں مگر ہم آج بھی میدان میں ہیں۔ حالات جیسے بھی ہوں قوم کے حقوق کیلئے اپنی جدوجہد ہمیشہ جاری رکھیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ باچا خان اور ولی خان کی برسیوں کی مناسبت سے تقریبات کا آغاز 20 جنوری کو ہوگا۔ باچا خان ٹرسٹ کے زير اہتمام افتتاحی تقریب باچا خان مرکز میں منعقد ہوگی۔ مرکزی صدر ایمل ولی خان افتتاحی تقریب میں خصوصی شرکت کرینگے۔ برسیوں کی مناسبت سے 23 جنوری کوچارسدہ میں عظیم الشان جلسہ عام ہوگا۔ صوبہ بھر کے تمام اضلاع کے ذمہ داران و کارکنان جلسے میں بھرپور شرکت یقینی بنائیں۔تقریب میں مختلف سیاسی جماعتوں سے درجنوں ذمہ داران اور کارکنان نے خاندانوں سمیت عوامی نیشنل پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔

تقریب میں مرکزی سیکرٹری برائے خارجہ امور سردار حسین بابک، صوبائی جنرل سیکرٹری حسین شاہ یوسفزئی، ضلعی صدر آصف الرحمان، جنرل سیکرٹری نوابزادہ، تحصیل صدر اکمل خان اور ضلعی و تحصیل کابینہ کے دیگرذمہ داران سمیت کثیرتعداد میں کارکنان نے شرکت کی۔

Scroll to Top