آج کے بیان سےثابت ہوا کہ سہیل آفریدی وزارت اعلیٰ کا اہل ہی نہیں،سینئرصحافی عمر چیمہ

سینئر صحافی عمر چیمہ نےکہا کہ وہ اب تک اس بیان کو ہضم نہیں کر پا رہے جو وزیرِاعلیٰ خیبرپختونخوا کی جانب سے سامنے آیا ہے۔

نجی ٹی وی کے ایک پروگرام میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے انہوں نے پروگرام اینکر سے کہا کہ آپ نے سہیل وڑائچ سے سوال کیا تھا کہ کیا یہ ان کی حکمتِ عملی ہے؟ یہ کوئی حکمتِ عملی نہیں، یہ محض کم عقلی ہے اور اگر کم عقلی نہیں تو پھر یہ بددیانتی ہے، جو ایک انتہائی سنگین مذاق کے مترادف ہے۔

عمر چیمہ نے کہا کہ آج سہیل آفریدی نے جو بیان دیا ہے، اس نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ اس عہدے کے اہل نہیں اور اس ذمہ داری کے لیے ابھی تک تیار نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہمیں فلاں بریفنگ نہیں دی گئی، حالانکہ انہیں چاہیے کہ اپنے آئی جی سے پوچھ لیں یا کسی ایس ایچ او سے پوچھ لیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ آج ضلع ٹانک کے علاقے میں ان کے اپنے پولیس اہلکار شہید ہوئے ہیں، اور وہاں کے ایس ایچ او سے پوچھا جائے کہ یہ لوگ کہاں سے آتے ہیں، وہ خود بتا دے گا۔

سینئر صحافی کا کہنا تھا کہ یہ بیان نہایت غیر سنجیدہ اور غیر ذمہ دارانہ ہے اور اب اس بات پر کوئی ابہام باقی نہیں رہتا کہ دہشت گرد کہاں سے آتے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر دہشت گرد افغانستان سے نہیں آتے تو پھر یہ بتایا جائے کہ جب ان کی وفاقی حکومت تھی تو وہ کس بنیاد پر اس بات پر اڑے ہوئے تھے کہ انہیں واپس پاکستان نہیں آنے دیا جائے گا۔ ان کے مطابق یہ ضد وہی شخص دکھاتا ہے۔

عمر چیمہ نے کہا کہ پہلے یہ موقف اختیار کیا گیا کہ دہشت گردوں کو پاکستان واپس نہیں آنے دیا جائے گا، اور اب کہا جا رہا ہے کہ افغانستان کو شواہد دیے جائیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ یہ افغانستان کے ترجمان ہیں یا پاکستان کے؟

ان کا کہنا تھا کہ یہ سمجھ سے بالاتر ہے کہ خیبرپختونخوا جیسے صوبے کا وزیرِاعلیٰ، جو دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے یہ کہہ رہا ہے کہ افغانستان کو ثبوت دیے جائیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر یہ مان لیا جائے کہ دہشت گردی افغانستان سے نہیں ہو رہی تو اس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ دہشت گردی پاکستان کے اندر سے ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب ان کے اپنے ترجمان شفیع جان ایک پروگرام میں بار بار ٹی ٹی پی کے حوالے سے بات کرنے سے گریز کرتے ہیں تو وہ باتیں سمجھ آنے لگتی ہیں جو پہلے عجیب لگتی تھیں، اور اب محسوس ہوتا ہے کہ ٹی ٹی پی ان کی militant ونگ بن چکی ہے۔

سینئر صحافی نے کہا کہ جس طرح یہ لوگ دہشت گردوں کے لیے نرمی دکھاتے ہیں اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ سب آپس میں ملے ہوئے ہیں اور انہیں اس بات کی کوئی پروا نہیں کہ کتنے لوگ مارے جا رہے ہیں اور کتنے معصوم بچے جان سے جا رہے ہیں، اس کے باوجود وزیرِاعلیٰ اس نوعیت کے بیانات دے رہے ہیں۔

عمر چیمہ نے کہا کہ یہ بیان انتہائی غیر سنجیدہ، غیر ذمہ دارانہ اور قابلِ مذمت ہے اور اسے سنجیدگی سے لینا چاہیے۔

ان کے مطابق وزیرِاعلیٰ سے اس بیان پر باقاعدہ محاسبہ ہونا چاہیے اور مطالبہ کیا جانا چاہیے کہ وہ یہ بیان واپس لیں۔ سیاست اس سطح تک نہیں گر سکتی کہ اتنے سنگین قومی مسئلے کو سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کی نذر کیا جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایسے صوبے کا وزیرِاعلیٰ جو دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہو، اس قسم کی باتیں کرے تو یہ کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ یہ بیان نہ کسی چیف منسٹر کو سوٹ کرتا ہے اور نہ کسی ایم پی اے کو۔

انہوں نے کہا کہ یہ وہ شخص ہے جو خود ایسے علاقے سے منتخب ہو کر آیا ہے جہاں شدت پسندوں کی بڑی تعداد موجود ہے اور جہاں اب بھی آپریشن ہو رہے ہیں، اس کے باوجود اس نوعیت کی باتیں کی جا رہی ہیں۔

آخر میں عمر چیمہ نے کہا کہ یہ رویہ انتہائی خطرناک اور قابلِ مذمت ہے۔ اسمبلی کو چاہیے کہ اس معاملے پر اجلاس بلائے اور اگر واقعی سنجیدگی دکھانی ہے تو کور کمانڈر کو ان کیمرا بریفنگ کے لیے بلانے سے پہلے وزیرِاعلیٰ سے پوچھا جائے کہ ان کے پاس کیا معلومات ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آئی جی، ڈی پی اوز اور سی ٹی ڈی چیف کو ساتھ بلا کر واضح کیا جائے کہ اگر دہشت گردی افغانستان سے نہیں ہو رہی تو کیا پاکستان کے اندر سے ہو رہی ہے، اور اگر اندر سے ہو رہی ہے تو اس کی سرپرستی اور سہولت کاری کون کر رہا ہے۔

ان کے مطابق اس بیان پر وضاحت طلب کرنا ناگزیر ہے یہ انتہائی غیر زمہ دارانہ بیان ہے، اوراگر یہ اسطرح چلتا رہا تو یہ اسی کو ہی بیانیہ بنا دیں گے۔

Scroll to Top