سینئر صحافی سہیل وڑائچ نےکہا ہے کہ کسی بھی ریاست کی چند بنیادی شرائط ہوتی ہیں، اگر ریاست موجود نہ ہو اور اس کی فوج نہ ہو تو نہ اس ملک میں جمہوریت آ سکتی ہے، نہ سیاسی جماعتوں کا وجود قائم رہ سکتا ہے اور نہ ہی سیاست ممکن ہوتی ہے۔
نجی ٹی وی کے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں جتنی بھی جنگیں ہوئی ہیں، ان میں ہمیشہ پوری اپوزیشن ریاست کے ساتھ کھڑی رہی ہے، جبکہ دہشت گردی بھی دراصل ایک جنگ ہی ہے۔
سہیل وڑائچ نے کہا کہ انہیں سمجھ نہیں آتی کہ پی ٹی آئی اس معاملے پر کیوں اڑ گئی ہےحالانکہ ان کے علم کے مطابق دہشت گردی سے سب سے زیادہ نقصان بھی پی ٹی آئی کو ہی ہوا ہے، خصوصاً افغانستان سے آنے والی دہشت گردی کے معاملے میں۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کو خود شدید مسائل کا سامنا رہا ہے اور سوات سے مراد صاحب ہوں یا دیگر رہنما، ہرکابینہ اجلاس میں یہی بات زور دے کر کہی جاتی رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اب چونکہ یہ مؤقف سیاسی طور پر انہیں سوٹ کرتا ہے، اس لیے انہوں نے ایک مختلف بیانیہ اپنا لیا ہے۔
سہیل وڑائچ نے بتایا کہ ان کی عمران خان سے بھی اس حوالے سے کھل کر بات ہوئی تھی، اور اس گفتگو میں عمران خان نے خود اس بات سے اتفاق کیا تھا کہ طالبان کی دہشت گردی کا مقابلہ سب کو مل کر کرنا ہوگا۔
سینئر صحافی نے کہا کہ جن بنیادی نکات پر قومی اتفاقِ رائے موجود تھاان سے پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے۔ ان کے مطابق تمام قومی و سیاسی جماعتوں نے مل کر یہ فیصلے کیے تھے کہ اگر اس نوعیت کا دہشت گردی کا مسئلہ ہوگا تو سب اکٹھے ہوں گے، اور جب ریاست اس کے خلاف کارروائی کرے گی تو سب اس کا ساتھ دیں گے۔
سہیل وڑائچ نے کہا کہ اس معاملے پر پی ٹی آئی اپنا راستہ مزید مشکل بنا رہی ہے۔پہلے ہی 9 مئی کی سنگین غلطی کا اعتراف نہ کرنا اور اس کا مداوا نہ کرنا ان کے لیے گلے کی ہڈی بنا ہوا ہے، اور یہ رویہ دانش مندی کا مظہر نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر پی ٹی آئی عقل، فہم اور ماضی کے تجربات سے سیکھ لے تو شاید اسے کوئی بہتر راستہ نظر آ جائے، کیونکہ وہ پہلے ہی ایک بحران میں ہے اور اس بحران کو مزید بڑھانا کسی طور اس کے مفاد میں نہیں۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی کو چاہیے کہ وہ اس بحران کو کم کرے۔
سہیل وڑائچ نے کہا کہ خاص طور پر وہ ریاستی بیانیہ جس پر پی ٹی آئی خود دستخط کر چکی ہے، جس پر میٹنگیں ہو چکی ہیں اور جس کے تحت ان کے دور حکومت میں بھی آپریشن جاری رہے، اب اس سے انحراف کی کوئی واضح وجہ سامنے نہیں آتی۔
انہوں نے کہا کہ انہیں اس پر دوبارہ غور کرنا چاہیے کیونکہ ریاست بہرحال کارروائی کرے گی اور یہ ممکن نہیں کہ دہشت گرد حملے کرتے رہیں اور ریاست ہاتھ پر ہاتھ دھر کر بیٹھی رہے۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ یہ عمل جاری رہے گا اور بالآخر یا تو پی ٹی آئی کو خود پیچھے ہٹنا پڑے گا یا پھر اپنی پالیسی میں ترمیم کرنا ہوگی۔





