نیپرا نے ملک بھر میں یکساں بجلی ٹیرف کی منظوری دے دی

اسلام آباد: نیپرا نے حکومت کی درخواست پر ملک بھر کے صارفین کے لیے یکساں بجلی ٹیرف کی منظوری دے دی ہے۔

حکام کے مطابق حکومت نے یکم جنوری 2026 سے تمام صارفین کے لیے یونیفارم ٹیرف کے نفاذ کی درخواست دی تھی۔

نیپرا نے اس سلسلے میں 2026 کے لیے ڈسکوز اور کے الیکٹرک کے الگ الگ ٹیرف کی منظوری دی تھی، تاہم بنیادی ٹیرف تمام صارفین کے لیے برقرار رہے گا۔

نیپرا کے مطابق گھریلو صارفین کے لیے بجلی کا بنیادی ٹیرف 47.69 روپے فی یونٹ برقرار ہے۔

پروٹیکٹڈ صارفین کے لیے ایک سے 100 یونٹ تک 10.54 روپے اور 101 سے 200 یونٹ تک 13.01 روپے فی یونٹ ہوگا۔

نان پروٹیکٹڈ صارفین کے لیے ایک سے 100 یونٹ تک 22.44 روپے اور 101 سے 200 یونٹ تک 28.91 روپے فی یونٹ رہے گا۔

ماہانہ 201 سے 300 یونٹ تک کا ٹیرف 33.10 روپے، 301 سے 400 یونٹ 37.99 روپے، 401 سے 500 یونٹ 40.22 روپے، 501 سے 600 یونٹ 41.62 روپے، اور 601 سے 700 یونٹ 42.76 روپے فی یونٹ رہے گا۔

700 یونٹ سے زیادہ استعمال کرنے والے صارفین کے لیے ٹیرف 47.69 روپے فی یونٹ برقرار رہے گا۔

لائف لائن صارفین کے لیے 50 یونٹ تک 3.95 روپے اور 51 سے 100 یونٹ تک 7.74 روپے فی یونٹ مقرر کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :   نیپرا کی پیشگوئی کے بعد شمسی توانائی کے صارفین کے لیے خوشخبری

جبکہ دوسری جانب پاکستان میں شمسی توانائی کے فروغ کے ساتھ نیٹ میٹرنگ کا کردار تیزی سے بڑھ رہا ہے، جس سے صارفین کی جانب سے قومی گرڈ پر انحصار کم ہوتا جا رہا ہے۔

مالیاتی ادارے عارف حبیب لمیٹڈ (AHL) کے مطابق نومبر 2025 میں نیٹ میٹرنگ کا مجموعی بجلی پیداوار میں حصہ سالانہ بنیاد پر 127 بیسس پوائنٹس بڑھ گیا، جو سولر توانائی کے بڑھتے ہوئے اپنانے کی واضح عکاسی کرتا ہے۔

مالیاتی تجزیہ کے مطابق نومبر 2025 میں ملک کی مجموعی بجلی پیداوار سال بہ سال 0.2 فیصد مستحکم رہی، تاہم یہ ڈیٹا کے-الیکٹرک کے صارفین کو شامل نہیں کرتا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مجموعی پیداوار میں استحکام کے باوجود نیٹ میٹرنگ کے بڑھتے ہوئے حصے سے توانائی کے شعبے میں ساختی تبدیلی کے آثار نظر آ رہے ہیں۔

ماہانہ بنیاد پر صورتحال کچھ مختلف رہی، نومبر میں اکتوبر کے مقابلے میں شمسی نیٹ میٹرنگ یونٹس میں 10.5 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ کمی موسمی عوامل، کم دھوپ کے اوقات اور بعض علاقوں میں عارضی طلب میں کمی کے سبب ہوئی ہو سکتی ہے۔ تاہم طویل المدتی رجحان شمسی توانائی کے حق میں برقرار ہے۔

توانائی کے ماہرین کے مطابق بڑھتی ہوئی بجلی کی قیمتیں، لوڈشیڈنگ کے خدشات اور حکومت کی جانب سے قابلِ تجدید توانائی پر دی جانے والی مراعات صارفین کو سولر سسٹمز کی جانب راغب کر رہی ہیں۔

Scroll to Top