اسپیشل اکنامک زون آرڈیننس کی واپسی انسانی غلطی تھی، اعظم نذیر تارڑ کی وضاحت

اسلام آباد: وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے واضح کیا ہے کہ اسپیشل اکنامک زون آرڈیننس کی واپسی کسی بدنیتی کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک غلط فہمی اور انسانی غلطی کے باعث عمل میں آئی، جس کی بروقت درستگی کر دی گئی۔

انہوں نے بتایا کہ اسلام آباد میں ای-آفس سسٹم کے تحت فائلوں کی منظوری آن لائن کی جاتی ہے اور ابتدائی مرحلے میں متعلقہ آرڈیننس کی منظوری بھی اسی نظام کے ذریعے ہوئی تھی۔

تاہم بعد ازاں معلوم ہوا کہ ابتدائی طور پر فائل کو سٹاف ٹو سٹاف اپروول سمجھ لیا گیا، جبکہ دستخط شدہ فائلز موصول ہونے پر واضح ہوا کہ آرڈیننس پر باقاعدہ دستخط موجود نہیں تھے۔

اعظم نذیر تارڑ کے مطابق اس وقت تک آرڈیننس کی پرنٹنگ بھی مکمل ہو چکی تھی، تاہم معاملے کو انسانی غلطی قرار دیتے ہوئے فوری طور پر اس کی اصلاح کر دی گئی۔

وفاقی وزیر قانون نے مزید وضاحت کی کہ جو بلز مشترکہ اجلاس سے منظوری کے بعد صدر مملکت کو بھجوائے جاتے ہیں، صدر کو آئینی طور پر ان بلز کو دس دن تک زیر غور رکھنے کا اختیار حاصل ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ خیرسگالی اور آئینی تقاضوں کے احترام کے تحت صدر مملکت نے تاحال اس آرڈیننس کو نوٹیفائی نہیں کیا۔

یہ بھی پڑھیں : ایران کے خلاف فیصلہ کن قدم سے ٹرمپ پیچھے نہیں ہٹیں گے، وائٹ ہاؤس

اعظم نذیر تارڑ نے سیاسی پہلو پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے درمیان موجود خوشگوار تعلقات کے باعث بھی اسپیشل اکنامک زون آرڈیننس واپس لینے کا فیصلہ کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ مستقبل میں بھی قومی معاملات کو افہام و تفہیم، باہمی تعاون اور سیاسی ہم آہنگی کے ساتھ آگے بڑھایا جائے گا۔

Scroll to Top