وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے معاون خصوصی شفیع جان نے سندھ حکومت پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی سے گھبرا کر جناح باغ میں آنسو گیس کی شیلنگ اور لاٹھی چارج کیا گیا۔
اپنے بیان میں شفیع جان نے کہا کہ ’’کراچی میں ہمارا مینڈیٹ تھا، لیکن ہمیں سیٹیں چھینی گئیں۔ جو کچھ ہمارے ساتھ ہوا، اس کے بعد حکومت کس منہ سے ہمارے ساتھ مذاکرات میں بیٹھے گی؟’’انہوں نے مزید کہا کہ ’’ہم طے کر چکے ہیں کہ مفاہمت کا راستہ مزاحمت سے ہی نکلے گا۔‘‘
ان الزامات کے بعد سیاسی منظرنامے میں ہلچل مچ گئی، تاہم دوسری جانب پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی شازیہ مری نے شفیع جان کے الزامات کو سختی سے مسترد کر دیا۔
شازیہ مری نے کہا کہ ’’پی ٹی آئی والوں کا راستہ بند نہیں کیا گیا، انہیں جلسے کی اجازت دی گئی تھی، لیکن وہ سڑک پر احتجاج کرنا چاہتے تھے کیونکہ سب کو معلوم ہے کہ روڈ پر 50 افراد بھی 500 لگ سکتے ہیں۔’’ انہوں نے مزید کہا کہ ’’پاکستان تحریک انصاف کو چاہیے کہ وہ اپنی توجہ خیبر پختونخوا پر مرکوز کرے۔‘‘
اس معاملے نے سیاسی کشیدگی کو بڑھا دیا ہے اور جناح باغ میں جلسے کی ناکامی کے اسباب پر شفاف وضاحت کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔





