اقتصادی ماہرین کی پیش گوئی کے مطابق ملک بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں آئندہ دنوں میں کمی کا امکان ہے، جس سے صارفین کو جزوی ریلیف مل سکتا ہے۔ اس کمی کے نتیجے میں نہ صرف ٹرانسپورٹ کے اخراجات کم ہوں گے بلکہ گھریلو ایندھن اور صنعتی شعبوں پر پڑنے والا دباؤ بھی کم ہو جائے گا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ 16 جنوری سے پیٹرول، ہائی اسپیڈ ڈیزل، کیروسین (مٹی کا تیل) اور لائٹ ڈیزل آئل کی قیمتیں کم ہونے کا امکان ہے۔ پیٹرول، جو زیادہ تر موٹرسائیکل، گاڑیوں اور دیگر چھوٹے نقل و حمل کے ذرائع میں استعمال ہوتا ہے، اس کی قیمت میں فی لیٹر 4.59 روپے کی کمی متوقع ہے، جس سے قیمت 253.17 روپے سے کم ہو کر 248.58 روپے فی لیٹر ہو جائے گی۔
ہائی اسپیڈ ڈیزل، جو عوامی ٹرانسپورٹ، مال برداری، زرعی مشینری، ٹیوب ویل اور بجلی پیدا کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر استعمال ہوتا ہے، اس کی قیمت میں 2.70 روپے فی لیٹر کمی کا امکان ہے اور یہ 257.08 روپے سے کم ہو کر 254.38 روپے فی لیٹر ہو جائے گا۔
اسی طرح، کیروسین آئل، جو کم آمدنی والے گھروں میں کھانا پکانے اور دور دراز علاقوں میں روشنی کے لیے استعمال ہوتا ہے، اس کی قیمت میں 1.82 روپے فی لیٹر کمی متوقع ہے اور قیمت 170.88 روپے سے کم ہو کر 169.06 روپے فی لیٹر ہو جائے گی۔
لائٹ ڈیزل آئل، جو چھوٹے صنعتی اداروں، بوائلرز اور بیک اپ جنریٹرز میں استعمال ہوتا ہے، اس کی قیمت میں 2.08 روپے فی لیٹر کمی متوقع ہے، جس سے قیمت 146.18 روپے سے کم ہو کر 144.10 روپے فی لیٹر ہو جائے گی۔
ایکس-ریفائنری سطح پر بھی قیمتوں میں کمی کی پیش گوئی کی گئی ہے، جس کے تحت پیٹرول 145.57 روپے سے کم ہو کر 140.98 روپے فی لیٹر، ہائی اسپیڈ ڈیزل 155.33 روپے سے کم ہو کر 152.63 روپے، کیروسین آئل 142.93 روپے سے کم ہو کر 141.11 روپے اور لائٹ ڈیزل آئل 125.08 روپے سے کم ہو کر 123.00 روپے فی لیٹر ہو سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ پیش گوئیاں موجودہ مقامی قیمتوں، پریمیم موٹر گیسولین اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی بین الاقوامی قیمتوں اور اندرون ملک فریٹ مساواتی مارجن کے حساب سے کی گئی ہیں۔
اگر یہ کمی حتمی منظوری پا گئی تو عوام کو نقل و حمل کے اخراجات میں کمی، گھریلو بجٹ میں آسانی اور زراعت و چھوٹے صنعتی شعبے پر قیمتوں کے دباؤ میں کمی حاصل ہوگی، جو صارفین کے لیے ایک خوش آئند خبر ہے۔





