سینئرتجزیہ کارحماد حسن نے تیراہ آپریشن کے حوالے سےخیبرپختونخواحکومت کا بیانیہ بے نقاب کردیا

سینئر تجزیہ کار حماد حسن نے وزیراعلی خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے تیراہ آپریشن سے متعلق ٹویٹ پر درعمل دیتے ہوئے کہاکہ کیا وزیراعلی ہاؤس میں تیراہ آپریشن سے متعلق ضلع خیبر کے قبائلی عمائدین کا کوئی جرگہ نہیں ہوا تھا؟

حماد حسن نے پوچھا کہ کیا صوبائی حکومت نے تیراہ اپریشن کےمتاثرین کے انخلا کے لیے پانچ ارب روپے کی منظوری نہیں دی تھی؟

انہوں نے مزید سوال کیا کہ کیا صوبائی حکومت نے یہ طے نہیں کیا تھا کہ اپریشن کے دوران جن لوگوں کے گھر مکمل طور پر تباہ ہوں گے انہیں تیس لاکھ اور جن کے گھر جزوی نقصان کا شکار ہوں گے انہیں دس لاکھ روپے دیے جائیں گے؟

سینئر تجزیہ کار نے یاد دہانی کروائی کہ متاثرین کی واپسی 10 اپریل کو طے کی گئی تھی اور انتظامیہ، جس میں ڈپٹی کمشنر ضلع خیبر اور کمشنر پشاور شامل ہیں جرگے کے ساتھ مذاکرات اور کوآرڈینیشن میں تھی۔ حماد حسن نے سوال کیا کہ کیا یہ انتظامیہ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کے زیرِ انتظام نہیں ہے؟

انہوں نے کہاکہ کم از کم وہ بات کریں جس کی کوئی بنیاد تو ہو،حقیقت تو یہ ہے کہ پی ٹی آئی والے آپریشن سے بھاگ رہے ہیں اور ایک ایسی فضا قائم کررہے ہیں کہ ہم تو اپریشن کے خلاف ہیں لیکن عملی طور پر آپ لوگ آپریشن کی حمایت میں ہیں اور دہشت گردوں کو یہ پیغام دینے کی کوشش کررہے ہیں کہ ہم آپریشن کے خلاف ہیں ۔آپ ریاست کو پیغام دیں گے یا آپ دہشت گردوں کو پیغام دیں گے ۔

Scroll to Top