اسلام آباد : وزیراعظم شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثناء اللّٰہ نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان ڈائیلاگ کے حق میں نہیں ہیں، جبکہ پارٹی کے دیگر اراکین کہتے ہیں کہ وہ مذاکرات کے لیے تیار نہیں۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کے دوران رانا ثناء اللّٰہ نے بتایا کہ پی ٹی آئی کے لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر انہیں بانی سے ملاقات کا موقع ملے تو وہ انہیں مذاکرات پر آمادہ کر لیں گے۔
رانا ثناء اللّٰہ نے مشورہ دیا کہ پی ٹی آئی کو واپس آنا چاہیے اور سٹینڈنگ کمیٹیوں میں بیٹھ کر حکومت کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ کچھ معاملات میں پارٹی کو اپنی تیاری اور حکمت عملی بہتر بنانے کی ضرورت ہے تاکہ پارلیمنٹ میں بھرپور کردار ادا کیا جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کی موجودہ تیاریوں سے لگتا ہے کہ وہ 8 فروری کی کال کو واپس نہیں لیں گے، تاہم احتجاج کی ناکامی کے بعد پارلیمنٹ میں آ کر اپنی پوزیشن مضبوط کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں : جب رویہ بدلتا ہے تو سیاست بھی بدلتی ہے، لاہور پہنچنے پر خواجہ سلمان رفیق اور رانا سکندر کا پرتپاک استقبال
محمود خان اچکزئی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے رانا ثناء اللّٰہ نے کہا کہ انہیں نواز شریف اور اچکزئی کے حالیہ رابطوں کے بارے میں علم نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ محمود اچکزئی حکومت کے مشکل وقت کے ساتھی ہیں اور نواز شریف و شہباز شریف کے ان کے بارے میں مثبت خیالات ہیں۔
رانا ثناء اللّٰہ نے بتایا کہ اگلے ہفتے سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر کی تعیناتی کے پراسس کا آغاز ہو جائے گا، جس کے بعد پارلیمانی سرگرمیوں میں مزید پیش رفت متوقع ہے۔





