پولیو وائرس نے ایک بار پھر ملک بھر میں خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ حالیہ سیوریج سیمپلنگ کے دوران ملک کے مختلف حصوں سے حاصل کیے گئے 40 نمونوں میں پولیو وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہوئی ہے۔
قومی ادارہ صحت اسلام آباد کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق ملک بھر سے 127 سیوریج نمونے لیبارٹری ٹیسٹنگ کے لیے بھجوائے گئے تھے، جن میں سے 40 نمونے پولیو وائرس کے لیے مثبت جبکہ 87 نمونے منفی پائے گئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے حاصل کیے گئے پانچ سیوریج نمونوں میں سے ایک میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی جبکہ چار نمونے منفی نکلے۔
سب سے زیادہ پولیو وائرس کے مثبت نمونے سندھ میں سامنے آئے جہاں 23 سیوریج نمونوں میں وائرس کی موجودگی پائی گئی۔ پنجاب سے بھجوائے گئے نمونوں میں سے 6 نمونے پولیو وائرس کے لیے مثبت قرار دیے گئے جبکہ خیبرپختونخواہ کے 8 سیوریج نمونوں میں بھی پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : پشتو مضمون لازمی قرار،محکمہ تعلیم خیبرپختونخوا کا بڑا فیصلہ
بلوچستان میں دو سیوریج نمونوں میں پولیو وائرس پایا گیا تاہم آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سے موصول ہونے والے تمام نمونے پولیو وائرس سے پاک نکلے ہیں۔
پولیو کی حالیہ صورتحال کے پیش نظر نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر نے انسداد پولیو اقدامات کو مزید تیز کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ادارے کے مطابق سال 2026 کی پہلی قومی پولیو ویکسینیشن مہم 2 سے 8 فروری تک ملک بھر میں منعقد کی جائے گی۔ اس سات روزہ مہم کے دوران 4 کروڑ 50 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
قومی پولیو مہم کو کامیاب بنانے کے لیے ملک بھر میں 4 لاکھ سے زائد تربیت یافتہ پولیو ورکرز فرائض انجام دیں گے جو گھر گھر جا کر بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائیں گے۔ حکام کے مطابق پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے والدین کا تعاون نہایت ضروری ہے اور ہر بچے کو پولیو ویکسین پلانا قومی ذمہ داری ہے۔





