کراچی، گل پلازہ آتشزدگی، 24 گھنٹے بعد بھی آگ بے قابو، عمارت کا بڑا حصہ زمین بوس، درجنوں افراد تاحال لاپتہ

کراچی کے مصروف ترین تجارتی مرکز ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ کی عمارت کا بڑا حصہ خوفناک آگ کی لپیٹ میں آ گیا ہے۔

24 گھنٹے سے زائد گزرنے کے باوجود فائر بریگیڈ کی ٹیمیں آگ پر قابو پانے میں کامیاب نہیں ہو سکیں، رت کا بڑا حصہ زمین بوس ہو گیا۔

آتشزدگی کے نتیجے میں فائر فائٹر فرقان شوکت سمیت چھ افراد جاں بحق ہو گئے جبکہ متعدد افراد بے ہوش حالت میں طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کیے گئے۔

ضلع انتظامیہ کو اہلخانہ کی جانب سے 33 افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاع دی گئی، سندھ حکومت کی ہدایت پر ڈی سی ساؤتھ نے مسنگ پرسن ڈیسک قائم کر دیا ہے اور لاپتہ افراد کا ڈیٹا جمع کیا جا رہا ہے۔

لاپتہ افراد میں شیخ سلمان، عمر نبیل، ڈاکٹر عائشہ، عمر علی، سلمان، حسن، چرچل، سفیان، عبداللہ، حمزہ، تنویر، کائنات، راحیلہ، شائستہ، صداقت اللہ، اشعر، انس عمران، محمد شیر، نوید پنجوانی، عدنان حنیف، محمد کامران، یاسین، نعمت، صداقت، محمد یوسف، عبدالله، علی گھانچی، سرفراز، فیصل، آصف، سعد، اسلام الحق اور غفران احمد شامل ہیں۔

ریسکیو آپریشن کے دوران دو فائر فائٹرز بھی زخمی ہوئے اور انہیں ہسپتال منتقل کیا گیا ہے، جس کے بعد اموات کی تعداد 6 ہوگئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی، گل پلازہ میں خوفناک آگ، 6 افراد جاں بحق، 22 زخمی، 18 لاپتہ

ریسکیو حکام کے مطابق آگ گزشتہ رات شاپنگ پلازہ کے میزنائن فلور پر ممکنہ طور پر شارٹ سرکٹ کے سبب لگی، جو تیزی سے نیچے گراؤنڈ اور فرسٹ فلور تک پھیل گئی، شاپنگ پلازہ میں موجود دکانیں اور قیمتی سامان بھی آگ کی لپیٹ میں آ گئے۔

شہر کے دیگر حصوں میں دھویں کی گہری تہہ نے سانس لینا مشکل کر دیا اور ریسکیو ٹیمیں دن رات کی محنت کے باوجود صورتحال پر قابو پانے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

Scroll to Top