کراچی کے تجارتی مرکز گل پلازہ میں گزشتہ رات شدید آتشزدگی کے نتیجے میں 6 افراد ہلاک اور 22 زخمی ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ کو تیسرے درجے کی قرار دیا اور ریسکیو ٹیموں نے 50 سے 60 افراد تک سے رابطہ نہ ہونے کی اطلاعات پر آپریشن جاری رکھا ہوا ہے۔
ترجمان بلدیہ عظمیٰ کے مطابق رات 10 بجکر 26 منٹ پر آگ لگنے کی اطلاع موصول ہوئی جس کے بعد سینٹرل اور صدر فائر اسٹیشن سے فائر ٹینڈرز موقع پر پہنچائے گئے۔
آگ کی شدت میں اضافے کے باعث مزید نفری اور گاڑیاں طلب کی گئیں جس کے نتیجے میں شہر کے 16 فائر اسٹیشنز سے فائر گاڑیاں اور واٹر بورڈ کے عملے کی ٹیمیں بھی موقع پر پہنچیں۔
عمارت کے گراؤنڈ فلور کے جلنے اور ایک حصہ کے دھماکے سے گرنے کے باعث فائر فائٹر فرقان موقع پر جاں بحق ہوئے، اسی دوران عمارت کی چھت پر موجود جنریٹرز بھی زمین پر گر گئے۔
جاں بحق افراد کی شناخت کاشف، فراز، عامر، وزیر اور فرقان کے نام سے ہوئی جبکہ زخمیوں میں حمزہ، عبد اللہ، ایان، حسیب، دانیال، صادق، رحیم، عثمان، فہد، زین اور محمد حنیف شامل ہیں۔
ریسکیو حکام کے مطابق آگ کے بعد 18 افراد لاپتہ ہیں جن میں مرد، خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، ضلعی انتظامیہ شہریوں سے اپنے پیاروں کی تفصیلات جمع کروا رہی ہے۔
کے ایم سی کی حالیہ رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ شہر کی 266 عمارتوں میں سے صرف 6 میں فائر سیفٹی کے مناسب انتظامات موجود ہیں جبکہ 200 سے زائد عمارتوں میں آگ بجھانے کے آلات دستیاب نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی میں ایک اور بڑا سانحہ، کئی گھروں میں صف ماتم، ایک ہی جھٹکے میں اربوں روپے ڈوب گئے
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ 35 فیصد عمارتوں میں ایمرجنسی ایگزٹ نہیں ہیں اور 70 فیصد میں بجلی کی وائرنگ غیر معیاری ہے جس سے شارٹ سرکٹ کے باعث آگ لگنے کے خدشات بڑھ جاتے ہیں۔
گل پلازہ میں آتشزدگی سے متعلق کمشنر اور ڈپٹی کمشنر ساؤتھ نے رپورٹ وزیر اعلیٰ سندھ کو پیش کر دی ہے۔





