پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے واضح کیا ہے کہ اپوزیشن لیڈر سینیٹ کا نوٹیفکیشن آج یا کل جاری ہونے کا امکان ہے۔
بیرسٹر گوہر نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے دونوں رہنماوں کو اپوزیشن لیڈر کے طور پر نامزد کیا، اس لیے دونوں کا نوٹیفکیشن ہو جائے تو بہتر ہے۔بیرسٹر گوہر نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر کا نوٹیفکیشن اسپیکر کی صوابدید پر منحصر ہے اور جو بھی اقدامات کیے گئے وہ مثبت ہیں۔ انہوں نے کہا’’ہماری کوشش تھی کہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کا نوٹیفکیشن ہو، جس نے بھی کروایا بہتر ہوا۔‘‘
صحافی کے سوال پر کہ کیا جے یو آئی کہہ رہی ہے کہ اپوزیشن لیڈر کا نوٹیفکیشن نواز شریف کی ہدایت پر ہوا، بیرسٹر گوہر نے جواب دیا کہ یہ عمل اسپیکر کی صوابدید تھا اور ہم ان کے مشکور ہیں۔
پی ٹی آئی کے جوڈیشل کمیشن اجلاسوں میں عدم شرکت پر بات کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ 27ویں آئینی ترمیم کے بعد جوڈیشل کمیشن کی حیثیت میں تبدیلی آئی ہے، اور 26ویں آئینی ترمیم پر پارٹی کے شدید تحفظات ہیں۔ اس لیے پی ٹی آئی نے پہلے بھی کمیشن کے اجلاسوں اور کمیٹیوں میں شرکت نہیں کی۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ جو بھی ججز آئیں گے، پارٹی اس طریقہ کار کا حصہ بنے گی اور اپنا موقف پیش کرے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ اب تک بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہیں ہوئی ہے، اور بانی سے ملاقات کے بعد ہی جوڈیشل کمیشن اجلاس میں شرکت کا حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔ ’’جس طرح باقی کمیٹیوں کا بائیکاٹ کیا، اسی طرح جوڈیشل کمیشن میں بھی ہم شریک نہیں ہوئے، لیکن ملاقات کے بعد ہر فیصلہ واضح اور حتمی ہوگا‘‘۔
اس پیش رفت سے یہ واضح ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی کا موقف مستحکم اور بانی پارٹی کی ہدایات کے مطابق ہے، اور سیاسی محاذ پر آنے والے فیصلے پارٹی کی قیادت اور موقف کے عین مطابق ہوں گے۔





