پٹرولیم ڈی ریگولیشن پالیسی پٹرول پمپ مالکان کا معاشی قتل ہے، ڈیلرز ایسوسی ایشن

پختونخوا پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے عہدیداروں نے حکومت کی مجوزہ پٹرولیم ڈی ریگولیشن پالیسی پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے پٹرول پمپ مالکان کا معاشی قتل قرار دیا ہے۔

پشاور پریس کلب میں منعقدہ پریس کانفرنس کے دوران ایسوسی ایشن کے صدر گل نواز خان آفریدی، اختر نواز خان، مقصود انور اور امجد علی شنواری نے دیگر عہدیداروں کے ہمراہ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ پالیسی آئل کمپنیوں کو مافیا بنا دے گی اور حکومتی ریگولیشن کے بغیر صارفین ان کمپنیوں کے رحم و کرم پر ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معیشت کا بڑا حصہ تیل سے حاصل ہونے والے ٹیکسوں پر انحصار کرتا ہے، لیکن ڈی ریگولیشن کی صورت میں مارکیٹ میں چور بازاری بڑھے گی اور آئل کمپنیاں صرف اپنے مفاد کے مطابق تیل امپورٹ کریں گی۔

جس سے شفافیت متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پالیسی کے باعث نہ صرف پٹرولیم ڈیلرز کو نقصان ہوگا بلکہ عام عوام بھی مہنگے داموں تیل خریدنے پر مجبور ہو جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: ڈی آئی خان: اسمگل شدہ پیٹرول کی فروخت کے خلاف احتجاج 

ایسوسی ایشن کے عہدیداروں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس پالیسی کے نفاذ سے قبل پٹرولیم ڈیلرز کے تحفظات دور کرے۔

انہوں نے حکومت کو تین مارچ تک کی ڈیڈلائن دیتے ہوئے اعلان کیا کہ اگر ان کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو ہڑتال کی جائے گی، جس کے نتیجے میں صوبے بھر میں پٹرولیم مصنوعات کی فراہمی متاثر ہو سکتی ہے۔

Scroll to Top