اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اس وقت شدید اندرونی تقسیم کا شکار ہے اور اس کے کسی بھی ممکنہ احتجاج سے حکومت کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے بتایا کہ پی ٹی آئی کے اندر پانچ سے چھ چھوٹے گروپس بن چکے ہیں، جس کی وجہ سے 8 فروری کو ہونے والے احتجاج کو مؤثر نہیں بنایا جا سکتا۔
ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران پی ٹی آئی نے بہت شور مچایا، لیکن اب ان کی سیاسی طاقت بتدریج کم ہو رہی ہے۔
تحریک انصاف کو سب سے زیادہ نقصان خیبر پختونخوا میں اپنی حکومت کی ناقص کارکردگی کے باعث اٹھانا پڑا ہے، جس کا خمیازہ پارٹی کو عوامی سطح پر بھگتنا پڑ رہا ہے۔
وزیر دفاع نے مذاکرات کے حوالے سے پی ٹی آئی پر بھی تنقید کی اور کہا کہ اب تک پی ٹی آئی کی جانب سے کسی قسم کا سنجیدہ جواب سامنے نہیں آیا۔
اپوزیشن لیڈر کا عہدہ خود نہ لینا ہی پارٹی کی بددیانتی کو ظاہر کرتا ہے۔ تحریک انصاف سیاسی فائدہ تو اٹھانا چاہتی ہے، مگر ذمہ داری لینے سے گریزاں ہے۔
یہ بھی پڑھیں : اسد قیصر نے حکومت سے مذاکرات کے لیے شرط رکھ دی
خواجہ آصف نے مزید کہا کہ محمود خان اچکزئی کے ساتھ پی ٹی آئی کا اتحاد کسی بھی وقت ختم ہو سکتا ہے، جس سے پارٹی کی سیاسی کمزوری مزید واضح ہو جائے گی۔
واضح رہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف نے 8 فروری کو عام انتخابات کے دو سال مکمل ہونے کے موقع پر ملک گیر احتجاج کی کال دی ہوئی ہے اور قوم سے شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔





