اسلام آباد: تحریکِ تحفظِ آئین پاکستان نے 8 فروری کے موقع پر پورے ملک میں دکانیں بند رکھنے، کاروباری سرگرمیاں معطل کرنے اور عوامی احتجاج کرنے کی کال دے دی ہے۔
تحریک نے اس دن کو جمہوری حقوق کے تحفظ اور آئینی اقدار کی بالادستی کے لیے احتجاج کا دن قرار دیا ہے۔
قائد حزب اختلاف اور چیئرمین تحریکِ تحفظِ آئین پاکستان محمود خان اچکزئی نے اپنے پیغام میں کہا کہ 8 فروری کو پاکستانی عوام سے ان کے بنیادی آئینی حقوق، خصوصاً رائے دینے اور نمائندے منتخب کرنے کا حق چھینا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ اس دن عوام کے حقوق کو جبر، فوجی طاقت اور عدالتی غیر شفاف کارروائیوں کے ذریعے پامال کیا گیا، اور حقِ احتجاج استعمال کرنے والے نوجوانوں، خواتین اور بچوں کو بھی شدید مظالم کا سامنا کرنا پڑا۔
ہزاروں شہری بشمول عمران خان کے حمایتی، جیلوں میں منتقل کیے گئے اور متعدد افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی۔
محمود خان اچکزئی نے عوام سے اپیل کی کہ وہ پُرامن انداز میں احتجاج میں حصہ لیں اور شرافت کے ساتھ اپنی آواز بلند کریں۔
انہوں نے کہا کہ ہم ظلم مٹانے نکلے ہیں، آؤ ہمارے ساتھ چلو۔ تحریک نے ملک بھر میں کارکنوں اور عوام سے درخواست کی ہے کہ وہ اپنے علاقوں میں شرافت اور جمہوری طریقے سے حصہ لیں، دکانیں اور کاروباری ادارے بند رکھیں اور عوام کو اس تحریک سے آگاہ کریں۔
یہ بھی پڑھیں : خواجہ آصف نے 8 فروری کے احتجاج کے بارے میں اپنا موقف واضح کر دیا
تحریکِ تحفظِ آئین پاکستان نے بیرونِ ملک پاکستانیوں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ اپنے ممالک میں پاکستان میں جمہوری آزادیوں، آئین کی بالادستی اور ایک حقیقی عوامی منتخب پارلیمنٹ کے قیام کے لیے آواز بلند کریں۔
محمود خان اچکزئی نے زور دیا کہ ملک میں طاقت کا سرچشمہ عوام ہوں اور داخلی و خارجی پالیسیاں منتخب پارلیمنٹ کے ذریعے تشکیل پائیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ تحریک کا مقصد صرف آئین کی بالادستی قائم کرنا اور ایک آزاد، جمہوری اور مستحکم پاکستان کی تعمیر ہے، اور ان کی خواہش کسی قومی ادارے کے خلاف نہیں بلکہ ہر ادارے—چاہے وہ سول ہو یا فوجی سے آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنا کردار ادا کرنے کی ہے۔
قائد حزب اختلاف نے کہا کہ 8 فروری کو بھرپور انداز میں منانے سے عوامی دباؤ پیدا ہوگا، جس کے نتیجے میں موجودہ حکمران طبقہ حقیقی جمہوری حکومت کے قیام اور آئین کی بالادستی کے لیے سنجیدہ ہو جائے گا۔
انہوں نے اپنے پیغام کو اختتام دیتے ہوئے کہا: پاکستان پائندہ باد، آمریت مردہ باد، جمہوریت زندہ باد





