پشاور: گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے صوبے کی موجودہ صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے بیان پر سخت تنقید کی ہے۔
گورنر کنڈی نے اپنے ایکس پر اہم پیغام جاری کیا جس میںکہا کہ ایک پُرامن صوبہ 2013 میں صوبائی حکومت کے حوالے کیا گیا تھا، لیکن آج وہ دوبارہ دہشتگردی کی لپیٹ میں ہے۔
If a peaceful province was handed over to the provincial government in 2013 and today it is once again in the grip of terrorism, then who is responsible if not the provincial leadership? If the chief executive of the province claims that intelligence- based operations are… pic.twitter.com/h6uaFQTLkd
— Faisal Karim Kundi (@fkkundi) January 26, 2026
فیصل کریم کنڈی نے سوال کیا کہ اس پورے بحران کی ذمہ داری صوبائی قیادت کے سوا کس پر عائد ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر صوبے کا چیف ایگزیکٹو بغیر حکومتی منظوری کے انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن ہونے اور اس سے اپنی لاعلمی کا دعویٰ کرے، تو یہ صرف نااہلی نہیں بلکہ گورننس کی تباہی کا اعتراف ہے۔
گورنر نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو مشورہ دیا کہ وہ شعبدہ بازی اور سیاسی ڈرامہ بازی کو ترک کریں اور عوام کے حقیقی مسائل پر توجہ مرکوز کریں۔
انہوں نے کہا کہ خاص طور پر وادی تیراہ اور کرم کے عوام کو اس وقت تقاریر نہیں بلکہ واضح قیادت کی ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھیں : محمود خان اچکزئی کا 8 فروری کے ملک گیر احتجاج کے حوالے سے بڑا اعلان
فیصل کریم کنڈی نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ کی اولین ترجیح آئی ڈی پیز کی فوری بحالی اور سیکیورٹی ہونی چاہیے، سیاسی انتشار اور ڈرامہ بازی نہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ عوام کے تحفظ اور صوبے میں امن و امان کی بحالی سب سے اہم ذمہ داری ہے۔





