شیراز احمد شیرازی
اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی کور کمیٹی کے حالیہ اجلاس میں پارٹی کے اندرونی اختلافات اور اراکین کی برہمی کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔
پارٹی ذرائع کے مطابق اجلاس میں کئی اہم معاملات پر لفظی جھڑپیں بھی ہوئیں اور کور کمیٹی کے کچھ فیصلوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بانی چیئرمین عمران خان نے 8 فروری کو خیبرپختونخوا بند کرنے کا حکم دیا تھا، تاہم پارٹی کی جانب سے اس پر کوئی واضح لائحہ عمل ابھی تک سامنے نہیں آیا، جس پر اراکین نے شدید برہمی ظاہر کی۔
اجلاس میں سوال اٹھایا گیا کہ خان صاحب کے راستے بند کرنے کے حکم پر اب تک کیا پیش رفت ہوئی اور ان کے احکامات ہر عمل کیوں نہیں ہو رہے، جبکہ کچھ اراکین نے یہ بھی پوچھا کہ کیا پارٹی حقیقت میں عمران خان کو مائنس تو نہیں کر رہی؟
اجلاس میں یہ بھی بات چیت ہوئی کہ کور کمیٹی کے اجلاس کیوں مقررہ وقت پر نہیں ہو رہے اور آیا پولیٹیکل کمیٹی کی کوئی اہمیت باقی ہے یا نہیں۔ اس پر بھی بعض اراکین نے شدید تحفظات کا اظہار کیا۔
ذرائع کے مطابق سلمان اکرم راجہ اور بیرسٹر گوہر نے پریس ریلیز میں تبدیلی کی، جس پر کور کمیٹی کے دیگر اراکین برہم ہوئے اور آئندہ اجلاسوں سے بائیکاٹ کا عندیہ دیا۔
اراکین پارلیمنٹ نے کور کمیٹی کی پریس ریلیز میں شمولیت پر بھی تحفظات ظاہر کیے۔
اجلاس میں سابق وزیر اعظم عمران خان کی صحت کے حوالے سے بھی تفصیلی بات چیت ہوئی اور کور کمیٹی نے تمام ممبران کو اڈیالہ پہنچنے کا حکم دے دیا۔
پارٹی ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ اراکین کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے اور کور کمیٹی کے آئندہ اقدامات کو واضح کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ اجلاس میں واضح ہوا کہ پارٹی کے اندر موجود اختلافات اور فیصلوں پر عدم عملداری، اراکین کے صبر کا امتحان بن چکی ہے اور آئندہ اجلاس میں مزید گرما گرم بحث متوقع ہے۔





